نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1075 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1075

20۔حمد وہ ہے کہ خلقت اس کی کیفیت پر مطلع ہونے سے نا امید ہو۔21 - حمد وہ ہے جو نہ جنتا ہے اور نہ اس کو کسی نے جنا۔کیونکہ جو جنتا ہے لامحالہ اس کاوارث ہوتا ہے۔اور جو خود جنا گیا ہے وہ ضرور مرتا ہے۔گویا صمد کے بعد کلمہ لخم يلد وَلَمْ يُولَدُ۔اس کا بیان معنی اور تشریح ہے۔( ابو العالیہ ) وہ 22۔حضرت ابن عباس فرماتے ہیں۔إِنَّهُ الكَبِيرُ الَّذِي لَيْسَ فَوْقَهُ أَحَدٌ صَمَدُ وَهِ کبیر ہے جس کے اوپر اور کوئی نہیں۔لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدُ۔وہ جنتا ہے اور نہ جنا گیا ہے۔نہ اس کا کوئی ولد ہے اور نہ وہ کسی کا ولد ہے۔اس آیہ شریفہ میں ان تمام مذاہب باطلہ کا بالخصوص رڈ ہے جن میں اللہ تعالی کے بیٹے اور اولاد فلاں مانی جاتی ہے۔جیسا کہ اس زمانہ کے عیسائی یسوع مسیح کو ولد اللہ اور یعنی اللہ کہتے ہیں۔اس پر ایک سوال ہوا ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے لم یلد پہلے کیوں رکھا ہے اور لخ یو لن پیچھے کیوں رکھا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ عام طور پر مشرکین کا یہ مذہب ہوتا ہے کہ شخص خدا کا بیٹا تھا یا فلاں عورت خدا کی بیٹی تھی۔مگر یہ نہیں کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص خدا کا باپ تھا یا فلاں عورت خدا کی ماں تھی۔گو عیسائیوں کے جاہل فرقہ نے اس شرک میں کمال را کیا ہے کیونکہ ان کے درمیان مریم کو خدا کی ماں کہا جاتا ہے اور ایک بڑا فرقہ عیسائیوں کا اب تک مریم کی پرستش کرتا ہے۔وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ : اور نہ اس کے واسطے کوئی کفو ہے۔کُفو کے لغوی معنے ہیں۔نظیر اور مثیل۔عرب میں بولا کرتے ہیں هَذَا كُفُوكَ أَى نَظِيرُكَ یہ تیرا کفو ہے۔حضرت ابن عباس فرماتے ہیں لَيْسَ لَهُ كُفُو وَلَا مِثْلُ۔رض مجاہد کا قول ہے کہ کفو سے مراد صاحبہ یعنی جوڑو ہے۔جیسا کہ ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے بَدِيعُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ أَلَّى يَكُونُ لَهُ وَلَدٌ وَلَمْ تَكُنْ لَهُ صَاحِبَةٌ وَخَلَقَ كُلّ شَیءٍ ( الانعام 102 ) وہ آسمانوں کا اور زمین کا بنانے والا ہے۔اس کا ولد 1075