نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1034 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1034

تحمید کے بغیر دین میں کوئی فتح حاصل کریں گے تو وہ ضائع چلی جائے گی اور بجائے فائدہ کے بسا اوقات نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔دین کا ایک غلبہ تو مقدر ہوتا ہے لیکن بعض دفعہ وہ مقدر ایسے وقتوں میں آجاتا ہے جب دین بگڑ چکا ہوتا ہے۔خدا نے تو وہ وعدہ پورا کر دیا۔اس نے دین کو فتح عطا کر دی لیکن لوگ بگڑ چکے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے عملاً وہ فتح بیکار ہو جاتی ہے۔چنانچہ ایسی کئی قومیں ہمارے سامنے ہیں جن کی تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ خدا نے تو ان کو فتح عطا فرما دی لیکن بد قسمتی سے وہ لوگ بگڑ چکے تھے اور فتح سے استفادہ نہ کر سکے۔اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب تمہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصرت ملے اور فتح عطا ہو تو فَسَبِّحْ بِحَمْدِ ربك۔اپنے رب کی تسبیح کے ترانے گانا اور اس کی حمد کرنا۔یعنی دو طرح کی قوتیں اپنے رب سے حاصل کرنا۔ایک تو یہ کہ تسیح کے ذریعہ خدا کے حضور یہ عرض کرنا کہ ہم تو نقائص سے پاک نہیں ہیں ، ہماری تو ہر چیز میں غلطیاں ہیں اس لئے اے خدا! تو غلطیوں سے پاک ہے ہم تیری طرف متوجہ ہوتے ہیں۔اس فتح میں ہماری غلطیوں کے نتیجہ میں جو کمزوریاں رہ جائیں ان سے ان قوموں کو محفوظ رکھنا جو اسلام میں داخل ہو رہی ہیں۔یہ نہ ہو کہ ہم اپنی بدبختی سے اپنی کمزوریاں ان میں داخل کر دیں اور چونکہ یہ بھی کمزوریوں سے پاک نہیں ہیں اس لئے یہ نہ ہو کہ جب یہ لوگ ہمارے اندر آئیں تو اپنے بد خیالات اور بد رسوم اور کمزوریاں لے کر داخل ہو جائیں۔اور امر واقعہ یہ ہے کہ جب بھی مذاہب غلبہ پاتے ہیں یہ Process اور یہ واقعہ ضرور رونما ہو جاتا ہے۔چنانچہ ایک طرف تو یہ ہوتا ہے کہ داخل ہونے والے جب پہلوں کی کمزوریاں دیکھتے ہیں تو ان میں سے بعض ٹھو کر کھاتے ہیں اور واپس پھر رہے ہوتے ہیں یعنی مرتد ہو رہے ہوتے ہیں۔وہ لوگوں کو قریب سے دیکھتے ہیں ، ان کو نظر آتا ہے کہ ان میں تو بہت سی بیماریاں ہیں، یہ تو اتنے اچھے نہیں جتنے سمجھ کر ہم داخل ہوئے تھے تو دوسری طرف بعض لوگ جو واپس نہیں جاتے بلکہ اکثر ہیں جو واپس نہیں جاتے مگر وہ ان کمزوریوں کا شکار ہو جاتے ہیں جو پہلے موجود ہوتی ہیں۔وہ کہتے ہیں کوئی فرق نہیں پڑتا جس طرح پہلے تھے اس طرح اب بھی ہیں 1034