نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1035 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1035

اور پہلے اگر کمز ور تھے تو یہ لوگ بھی تو کمزور ہیں ان کمزوریوں اور بدیوں میں مبتلا ہونے میں کوئی حرج نہیں۔پس وہ قوم بڑی بدقسمت ہوتی ہے جس کو خدا فتح نصیب کرے اور وہ خدا کی عطا کردہ اس فتح کے مزاج کو بگاڑ دے۔دوسری طرف یہ لوگ برائیاں لے کر آتے ہیں۔چنانچہ دیکھ لیں اسلام کی تاریخ میں اکثر بدعات اور نقائص ملکی حالات سے تعلق رکھتے ہیں۔ہندوستان کی اور قسم کی بدعات ہیں، وہاں اور قسم کی رسوم ہیں جنہوں نے اسلام میں رواج پایا، ایران کی فتح کے وقت اور قسم کی بدیاں داخل ہوئیں۔عیسائی آئے تو کچھ اور قسم کی بدیاں لے کر آئے ، یہودی داخل ہوئے تو وہ اپنے مزاج کی بدیاں لے کر آئے، مشرک کچھ اور بدیاں لے کر آ گئے تو آنے والے بھی اپنی ساری بدیاں چھوڑ کر نہیں آیا کرتے۔وہ کچھ بدیاں ساتھ لے کر آتے ہیں جن کی اصلاح کرنی پڑتی ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے تسبیح کے ذریعہ ہمیں یہ پیغام دیا کہ نہ آنے والے پاک ہیں، نہ تم پوری طرح پاک ہو۔اگر تم نے اپنے رب کی تسبیح نہ کی اور اس کی طرف متوجہ نہ ہوئے اور عاجزانہ یہ عرض نہ کیا کہ اے خدا! نہ صرف یہ کہ ہماری بدیاں ان تک نہ پہنچیں بلکہ انہیں بھی پاک فرمادے تا کہ ان کی بدیاں ہم میں داخل نہ ہوں۔اس وقت تک یہ فتح تمہارے کسی کام نہیں آ سکتی بلکہ ہو سکتا ہے کہ اس فتح کو تم بالکل اس لائق نہ رہنے دو کہ مذہبی تاریخ میں اس کی کوئی حیثیت باقی رہے۔یہ ایک لمبا مضمون ہے۔میں اس سے اگلے قدم میں داخل ہوتا ہوں۔اللہ تعالیٰ نے حمد کا پیغام دیا۔خدا کی حمد کے گیت گانے کا صرف یہ مطلب نہیں ہے کہ اللہ تعالی گویا ہماری حمد کا پیاسا بیٹھا ہوا ہے کہ پہلے تسبیح کر دیں پھر حمد کر دیں تو اسے اس فتح کی جز امل جائے گی جو اس نے عطا کی ہے۔اگر کسی کے دماغ میں یہ خیال ہے تو نہایت لغو خیال ہے۔وہ تو تسبیح و تحمید سے بھی مستغنی ہے، وہ تو ساری کائنات کا مالک ہے، انسان پیدا ہو یا نہ ہو، یہ زمین اور یہ زمانہ ہو یا نہ ہو وہ ساری کائنات پر حاوی ہے، سارے زمانوں پر حاوی ہے۔یہ جو پیغامات دیتا ہے یہ ہمارے فائدہ کے لئے دیتا ہے۔فرماتا ہے جب خدا کی حمد میں داخل ہو گے تو یہ دعا کرنا جس سے تمہارے دل میں بے قرار تمنا خود بخود اٹھنے لگے گی۔اللہ کی ذات پر 1035