نُورِ ہدایت — Page 1031
خلاصہ کلام یہ کہ سورۃ نصر میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو استغفرہ کا حکم دینے سے مراد یہ ہے کہ آپ دُعا کریں کہ فتوحات کے نتیجے میں جو خرابیاں اُمت محمدیہ میں پیدا ہوسکتی ہیں اللہ تعالیٰ خود ان کی اصلاح کا انتظام فرمادے۔إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا تاب کے معنے ہوتے ہیں فضل کے ساتھ رجوع کیا۔اور تو اب مبالغہ کا صیغہ ہے اس لئے اس کے معنے ہوں گے بار بار فضل کے ساتھ رجوع کرنے والا۔گویا اس حصہ آیت میں اس مضمون کو ادا کیا گیا ہے کہ اے محمد رسول اللہ ! اگر آپ دُعاؤں میں لگ جائیں گے تو اللہ تعالیٰ آپ کی دُعاؤں کو ضرور سُنے گا۔اور اپنے فضل کے ساتھ آپ کی قوم پر بار بار رجوع کرے گا۔نبوت، صدّیقیت، شہیدیت اور صالحیت چار روحانی انعام ہیں جن کو قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے اور بتایا ہے کہ ان انعاموں کا ملنا خدا تعالیٰ کے فضل پر منحصر ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَمَنْ يُطِعِ الله وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّن والصَّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاء وَالصَّلِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا۔ذلِكَ الْفَضْلُ مِنَ اللهِ وَ كَفَى بِاللهِ عَلِیما (النساء 71-70) یعنی جو اللہ اور رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کی کامل اطاعت کرے گا تو وہ ان لوگوں کے زمرہ میں شامل ہو جائے گا جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا۔یعنی نبی، صدیق ، شہید اور صالح۔اور ان مقامات کا ملنا اللہ تعالی کے فضل سے ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ بوجہ علیم ہونے کے پوری طرح جانتا ہے کہ کون ان فضلوں کا مورد ہونے کا اہل ہے۔پس إِنَّهُ كَانَ تو ابا کے الفاظ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ تسلی دی گئی ہے کہ جب بھی آپ کی قوم کو حفاظت کی ضرورت ہوگی ، جب بھی کسی اصلاح کی ضرورت ہوگی اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت اور اصلاح کے ذرائع پیدا کر دے گا۔اور اس خرابی کے مناسب حال شخص پیدا کر دے گا۔چنانچہ واقعات بتاتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائنی گئی اور امت 1031