نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1032 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1032

میں جب بھی کوئی خرابی پیدا ہوئی تو اس کی اصلاح کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس کے مناسب حال شخص کھڑا کر دیا۔روایت میں آتا ہے کہ سورۃ نصر کے نزول پر اللہ تعالیٰ کے حکم سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْ کے مطابق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے یہ دُعائیہ کلمات اُٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے پڑھا کرتے تھے کہ سُبْحَانَكَ اللهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوْبُ إِلَيْكَ (در منثور) یعنی اے اللہ ! میں تیری تسبیح کرتا ہوں اور تیری ذات میں سب خوبیوں کے ہونے کا اقرار کرتا ہوں اور تجھ سے بشری کمزوری پر پردہ پوشی چاہتا ہوں اور تیری طرف ہی رجوع کرتا ہوں۔حضرت ام سلمہ روایت کرتی ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ یا رسول اللہ آپ یہ دعا بار بار کیوں پڑھتے ہیں؟ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اسی قسم کی دُعا کرنے کا ارشاد فرمایا ہے اور پھر سورۃ نصر کی آیات پڑھیں۔بہر حال اس روایت سے ثابت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اپنی امت کے لئے کثرت سے دعائیں کیں تا آپ کی اُمت راہ راست پر قائم رہے اور جب کبھی اس میں کوئی خرابی پیدا ہو تو اللہ تعالیٰ ایسے اشخاص کو کھڑا کر دے جو اس خرابی کو دور کر دیں اور یہ کہ خود اللہ تعالیٰ اُمت محمدیہ کی تربیت کا انتظام کرتا رہے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعائنی گئی اور اس کا نتیجہ جو کچھ نکلا وہ تاریخ کے اوراق بتارہے ہیں اور قیامت تک ایسا ہی ہوتا رہے گا اور جب بھی اسلام کی حفاظت کا سوال پیدا ہوگا اللہ تعالیٰ خود اس کی حفاظت کے سامان پیدا کر دے گا۔(ماخوذ از تفسیر کبیرزیر تفسير سورة النصر ) حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں : إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجًا کہہ کر اللہ تعالیٰ نے ایک خوشخبری دی ہے۔فرمایا ایسا وقت آنے والا ہے کہ لوگ فوج در فوج اسلام میں 1032