نُورِ ہدایت — Page 971
بظاہر اس کے تین گھنٹے وقت میں سے کم ہو جائیں گے مگر انہی تین گھنٹوں کی بدولت وہ آٹھ گھنٹوں میں وہ کچھ کام کر لے گا جو باقی 24 گھنٹوں میں بھی نہیں کرسکیں گے۔پس عبادت کی کثرت ، تہجد اور ذکر الہی کی طرف توجہ کرو اور اپنی زندگیاں دین کی خدمت کے لئے وقف کرو۔میں بتا چکا ہوں کہ ابھی ہماری جماعت میں بہت تھوڑے لوگ ہیں جنہوں نے خدمت دین کے لئے اپنی زندگیاں وقف کی ہوں اور پھر جو اپنی زندگیاں وقف کر چکے ہیں ان میں سے بھی ایک حصہ ایسا ہے جو اپنے فرائض کو نہیں سمجھتا۔۔۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا نام خدا تعالیٰ نے ابراہیم بھی رکھا ہے جس سے خدا تعالیٰ کا یہی منشاء ہے کہ آپ کی اولاد اسماعیلی نمونہ کو اختیار کرے اور دین کے لئے اپنے آپ کو وقف کر دے۔اس کے بعد خدا انہیں زیادہ دے تو وہ زیادہ قبول کرلیں اور اگر کم دے تو کم پر راضی رہیں۔یہ خدا تعالیٰ کی مرضی پر منحصر ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امت میں سے بعض فاقہ زدہ نبی بھی ہوئے ہیں اور حضرت سلیمان جیسے بادشاہ بھی گزرے ہیں جن کے لشکروں اور نوکروں کی تعداد ہی ہزاروں تک پہنچتی تھی۔میں یہ بھی دیکھتا ہوں کہ جماعت کے سفلی طبع لوگ یا منافق طبقہ ان کو تو ادنی نگاہ سے دیکھتا ہے جو دین کی خدمت کرتے ہیں اور ان کی تعریف کرتا ہے جو دنیا کمانے میں لگے ہوئے ہیں۔میں خوب سمجھتا ہوں کہ ان لوگوں کا ایک حصہ جاہل ہے اور دوسرا منافق جو اس طرح جماعت کو تباہ کرنا چاہتا ہے۔مگر میں جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کا فعل ایک دن ایسے سب لوگوں کو خس کم جہاں پاک کردے گا۔کیونکہ مومنوں کا دور ابھی آنا ہے۔بہر حال میں جماعت کو یہ انتباہ کرنا چاہتا ہوں کہ اس بارہ میں ہماری جماعت خطر ناک کوتاہی کا ارتکاب کر رہی ہے۔دین کی خدمت کے لئے جتنے لوگوں کو اپنی زندگی وقف کرنی چاہئے اتنے لوگ اپنی زندگی وقف نہیں کر رہے اور پھر جو زندگی وقف کرتے ہیں وہ بھی اپنے فرائض کو پورے طور پر ادا نہیں کر رہے۔حالانکہ جب تک اس امر کی طرف توجہ نہیں ہوگی ہمارا کبھی بھی وہ پیمان پورا نہیں ہو گا جو ہم خدا کے ساتھ بیعت کے وقت کرتے ہیں۔971