نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 952 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 952

ہی ملی۔اللہ تعالیٰ بھی قرآن کریم میں اس کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے وَكَانُوا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُونَ عَلَى الَّذِيْنَ كَفَرُوا (البقرة 90) یعنی آج یہودی محمد رسول الله علی تعلیم کا انکار کر رہے ہیں مگر پہلے یہی یہود عربوں کو بتایا کرتے تھے کہ عنقریب ایک نبی آنے والا ہے جس کے ذریعہ ہمیں اپنے دشمنوں پر فتح حاصل ہو گی۔پس اس شمال وجنوب کے سفر کی وجہ سے مکہ کے ان پڑھ لوگ یہود و نصاریٰ کے علماء سے ملتے اور ان کی آراء سے جو وہ آخری نبی کے بارہ میں رکھتے تھے واقف رہتے۔چنانچہ اس کا ثبوت اس امر سے بھی ملتا ہے کہ احادیث میں آتا ہے حضرت ابوطالب جب اپنے ساتھ رسول کریم عالم کو شام کے سفر پر لے گئے تو وہاں ایک پادری نے آپ کو دیکھ کر کہا کہ اس بچے کی خاص نگرانی کرنا۔اس میں ایسی علامات پائی جاتی ہیں شاید یہ بہت بڑا انسان ثابت ہو اور شاید عرب کے بارہ میں جو الہامی کلام ہے وہ اسی کے ذریعہ سے پورا ہو۔اسی قسم کی باتیں مکہ والے ان سفروں میں متواتر سنتے رہتے تھے اور انہیں باتوں کو اللہ تعالی محمد رسول الله صل تعلیم کی تائید میں ابتدائی دور چلانے کا ایک ذریعہ بنانا چاہتا تھا۔پس یہ دونوں سفر در حقیقت اللہ تعالیٰ کی ایک حکمت کے ماتحت تھے۔ورنہ وہ قوم جس میں الہام نہیں پایا جاتا تھا، جس کے پاس کوئی شریعت نہیں تھی، جو متمدن علاقوں سے دور رہنے والی تھی اس کے لئے یہ کتنی مشکل بات تھی کہ وہ محمد رسول اللہ کے دعوی کو سن کر آپ پر ایمان لے آتی۔مگر ان سفروں کے نتیجہ میں جب وہ لوگ متواتر یہودیوں اور عیسائیوں سے اس قسم کی باتیں سنتے تو ان کا اپنا عقیدہ کمزور ہوجاتا اور وہ سمجھتے کہ شاید کچھ بات ہوا اور شاید کوئی آنے والا ہم میں آہی جائے۔پس یہ دونوں سفر اللہ تعالیٰ کی ایک بہت بڑی حکمت کے ماتحت تھے۔اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کی حالت پر تعجب کرو کہ کس طرح یہ قوم جو مکہ میں آبسی تھی جو بھو کی مرجاتی تھی مگر مکہ سے باہر نکلنا پسند نہیں کرتی تھی اب باقاعدہ جس طرح نماز فرض ہوتی ہے،سردی آتی ہے تو یمن کی طرف چل پڑتے ہیں۔گرمی آتی ہے تو شام کی طرف چل پڑتے ہیں۔یہ سفروں کی محبت ان کے دلوں میں آخر کس نے پیدا کی ہے۔صرف ہم نے پیدا کی 952