نُورِ ہدایت — Page 953
ہے۔اگر یہ مگہ میں بیٹھے رہتے تو ان کو کچھ بھی پتہ نہ چلتا کہ ہم نے محمد رسول اللہ الیہ کے متعلق کیا کیا پیشگوئیاں کی ہوئی ہیں۔مگر اب ان کے دلوں میں ان سفروں کی ایسی محبت پیدا کر دی گئی ہے کہ یہ نہایت با قاعدگی کے ساتھ گرمیوں میں شام کا اور سردیوں میں یمن کا سفر کرتے ہیں۔یمن میں جاتے ہیں تو وہاں کے لوگوں سے اس قسم کی باتیں سنتے ہیں کہ ایک نبی آنے والا ہے اور شاید وہ عرب سے ہی پیدا ہو۔شام میں جاتے ہیں تو وہاں کے لوگوں سے سنتے ہیں کہ ایک نبی آنے والا ہے اور شاید وہ عرب سے ہی پیدا ہو۔اس طرح ان کے کانوں کو ہم نے ان پیشگوئیوں سے آشنار کھا جو محمد رسول اللہ علیم کے ظہور کے متعلق تھیں تا کہ آپ کے دعوی کو سنتے ہی وہ یکدم انکار نہ کر دیں اور واقعہ میں مکہ والوں کو کلام الہی سے جتنا بعد تھا اس کو دیکھتے ہوئے یہ کتنا مشکل تھا کہ وہ رسول کریم علیہ کی آواز سن کر آپ پر ایمان لا سکتے۔یہ انہی پیشگوئیوں کے سننے کا نتیجہ تھا کہ جب رسول کریم علیم نے یہ دعویٰ فرمایا تو مکہ میں سے ہی کچھ لوگ ایسے کھڑے ہو گئے جو فوراً آپ پر ایمان لے آئے۔۔۔۔حمد پس مکہ والوں کے یمن اور شام کے سفر در حقیقت محمد رسول اللہ علیم کی بعثت کے لئے بطور ارہاص تھے اور اس ذریعہ سے وہ محمد رسول اللہ صل العلیم پر ایمان لانے کے لئے تیار کئے جا رہے تھے۔یہی وجہ ہے کہ سورہ الم ترَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحَب الْفِيْلِ کے معا بعد خدا تعالیٰ نے سورۃ ایلاف کو رکھا ہے۔لا يلف قريش الفِهِمْ رِحْلَةَ الشَّتَاءِ وَالضَّيْفِ مختلف محذوفات کی وجہ سے جو لام سے پہلے نکالے گئے ہیں اور ایلاف کے مختلف معنوں کی وجہ سے اس آیت کے کئی معنے ہوں گے جو قریباً ایک دوسرے سے تعلق رکھنے والے ہوں گے۔پہلا مطلب اس کا یہ ہوا کہ ہم نے قریش کے دل میں سردی گرمی کے دونوں سفروں کی محبت پیدا کرنے کے لئے ابرہہ کے لشکر کو تباہ کر دیا اور انہیں بھوسے کی طرح اڑا دیا۔اس میں 953