نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 948 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 948

اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس وعدہ کے مطابق ہوا جو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کیا گیا تھا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی تھی کہ رَبِّنَا وَابْعَثُ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمُ ايْتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَب وَالْحِكْمَةَ وَيُزَلِيْهِمْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (البقرة (130) اے میرے رب ان مکہ والوں میں ایک رسول مبعوث فرما جو انہی میں سے ہو۔وہ انہیں تیری آیات پڑھ پڑھ کر سنائے۔تیری کتاب کا علم ان کو دے۔حکمت کی باتیں ان کو سکھائے۔اور ان کے نفوس کا تزکیہ کرے۔اس دعائے ابراہیمی سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ رسول مگہ میں آئے گا اور مکہ کے رہنے والوں سے سب سے پہلے کلام کرے گا۔اگر مکہ آباد نہ ہوتا تو وابعث فيهم رسُولا کی دعا کس طرح پوری ہوتی اور وہ کون سے لوگ تھے جن میں یہ رسول مبعوث ہوتا۔اسی طرح ابراہیم نے کہا تھا کہ وہ انہیں کتاب اور حکمت سکھائے۔اگر مکہ آباد نہ ہوتا تو وہ کون لوگ تھے جن کو کتاب اور حکمت سکھائی جاتی۔پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا تھا کہ وہ رسول ان کو پاک کرے۔اگر وہاں کوئی آدمی ہی نہ ہوتا تو اس رسول نے پاک کن کو کرنا تھا۔اگر مکہ آباد نہ ہوتا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جو یہ چار دعائیں کی تھیں ان میں سے ایک بھی پوری نہ ہو سکتی۔پس یہ اتفاق نہیں تھا بلکہ جو کچھ ہوا الہی سکیم اور اس کے منشاء کے مطابق ہوا۔دشمن کہہ سکتا ہے کہ محمد رسول اللہ علیم نے نعوذ باللہ جھوٹا دعویٰ کر دیا مگر اس امر کو کون اتفاق کہہ سکتا ہے کہ دوہزار سال تک ایک قوم اِدھر اُدھر بھٹکتی پھرتی ہے۔وہ ابراہیم اور اسمعیل کی تمام پیشگوئیوں کو فراموش کر دیتی ہے مگر جب زمانہ محمدی قریب آتا ہے تو یکدم اس قوم میں ایک حرکت پیدا ہوتی ہے۔وہ کہتی ہے ہم سے یہ کیا بے وقوفی ہوئی کہ ہم ادھر اُدھر پھرتے رہے۔ہمارے دادا نے تو ہم سے کہا تھا کہ مکہ میں رہو اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو۔ہمارے دادا نے تو کہا تھا کہ تمہاری تمام ترقی مکہ میں رہنے سے وابستہ ہے۔مگر ہم کہیں کے کہیں پھرتے رہے۔اور وہ پھر مکہ میں آکر بس جاتی ہے۔اس لئے نہیں کہ مکہ میں کوئی کارخانہ کھل گیا تھا۔اس لئے نہیں کہ وہاں تجارتیں اچھی ہوتی تھیں۔948