نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 934 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 934

طرح سلوک ہوا۔اگر خانہ کعبہ سے دشمنی رکھنے والوں کی سخت ذلت اور رسوائی ہوئی اور دوسری طرف خانہ کعبہ سے دوستی رکھنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں سے نوازا ہے تو ہر شخص ان دونوں متقابل باتوں کو دیکھ کر سمجھ سکتا ہے کہ یہ جو کچھ ہوا بالا رادہ ہوا۔اتفاقی امر نہیں تھا۔قریش در اصل نام ہے بنو نضر بن کنانہ کا۔جیسے خود رسول کریم صلی علیم سے یہ مروی ہے۔چنانچہ آپ سے جب سوال کیا گیا کہ قریش کن کو کہتے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا القريش من ولد النَّضْرِ - نضر کی جو اولاد ہے وہ قریشی کہلاتی ہے۔اسی طرح احادیث میں آتا ہے قَالَ إِنَّ اللهَ اصْطَفَى كَنَانَةٌ مِنْ بَنِي اِسْمعِيل وَاصْطَفَى مِنْ كَنَانَةَ قُرَيْشًا وَاصْطَفَى مِنْ قُرَيْشٍ بَنِي هَاشِمٍ وَاصْطَفَانِي مِنْ بَنِي هَاشِم (سراج منیں) یعنی اللہ تعالیٰ نے کنانہ کو بنی اسمعیل میں سے فضیلت دی۔کنانہ میں سے قریش قبیلہ کو فضیلت دی۔قریش قبیلہ میں سے اللہ تعالیٰ نے بنو ہاشم کو فضیلت دی اور بنو ہاشم میں سے اللہ تعالیٰ نے مجھے فضیلت دی۔اس حدیث میں رسول کریم صلیم نے قریش کو بنو کنانہ قرار دیا ہے۔اور دوسری حدیث میں آتا ہے کہ من ولد النضير - دراصل کنانہ کے کئی بیٹے تھے۔رسول کریم صل الا لیلی نے یہ تشریح فرما دی کہ ان میں سے صرف نظر کی اولا د قریش کہلاتی ہے ساری اولاد نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ حضرت ابراہیم نے تو حضرت اسمعیل کو خانہ کعبہ میں اس لئے بٹھایا تھا کہ وہ خانہ کعبہ کی حفاظت کریں۔لیکن حضرت اسمعیل کی اولاد میں آگے یہ جوش دیر تک قائم نہ رہا۔جیسے آج بعض سید چور بھی ملتے ہیں اور ڈا کو بھی ملتے ہیں۔کچھ نسل تک تو انہوں نے اِس وعدہ کو یا درکھا لیکن اس کے بعد وہ اس وعدے کو بھول گئے اور حضرت اسمعیل کی اولاد سارے عرب میں پھیل گئی۔بلکہ عرب کے علاوہ شام تک بھی چلی گئی۔آخر قرب زمانہ نبوی میں قصی بن حکیم بن نضر کے دل میں خیال آیا کہ ابراہیمی وعدہ کو تو ہم پورا نہیں کر رہے۔ہمارے دادا نے تو یہ کہا تھا کہ تم یہاں رہو۔اس گھر کی صفائی رکھو۔خانہ کعبہ کے حج اور طواف کے لئے جولوگ آئیں ان کی خدمت کرو اور اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اپنا وقت گزارو۔مگر ہم ادھر اُدھر بکھر گئے اور اس خدمت کو جو ہمارے دادا نے ہمارے سپرد کی تھی بھول گئے۔یہ خیال ان کے 934