نُورِ ہدایت — Page 901
نے اپنے آپ کو ابرہہ اور اس کے لشکر کے مقابلہ میں اتنا بیکس اور بے بس پایا کہ ہتھیار ڈال دیئے اور سمجھ لیا کہ ہم ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے مگر باوجود اس کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسے سامانوں اور ذرائع سے دشمن کو تباہ کیا گیا کہ جس کی مثال دنیا میں ڈھونڈے سے بھی نہیں مل سکتی۔فرماتا ہے تم غور کرو اور سوچو کہ وہاں کیا بات تھی اور کس طرح اللہ تعالیٰ نے اس کے لشکر کو تباہ کیا۔اس کا لشکر اس لئے تباہ ہوا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے ایک دعا کی تھی جس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ نے ان سے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ اس شہر کو امن والا بنائے گا اور اسے دشمنوں کے حملہ سے محفوظ رکھے گا۔ابراہیم کے وقت لوگ کہتے ہوں گے کہ جناب آپ نے یہ دعویٰ تو کر دیا ہے مگر اس کا ثبوت کیا ہے۔یہ تو آئندہ زمانہ کے متعلق آپ ایک بات کہہ رہے ہیں اور اُس زمانہ میں نہ ہم زندہ ہوں گے ، نہ آپ نے زندہ رہنا ہے۔پھر ایسی بات کا فائدہ کیا ہے۔مگر جب وہ وقت آیا دیکھنے والوں نے دیکھ لیا کہ ابراہیم کی پیشگوئی پوری ہوئی اور ایک زبر دست دشمن جولشکر جرار کے ساتھ خانہ کعبہ پر حملہ آور ہوا تھا اس سے اللہ تعالیٰ نے اپنے گھر کو بچالیا اور اس طرح ایک ناممکن بات ممکن ہوگئی۔جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ پیشگوئی کی تھی اُس وقت مکہ دنیا میں کوئی شہر نہیں تھا۔محض اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کی رضا کے لئے انہوں نے اپنی بیوی اور ایک چھوٹے بچے کو جو ابھی بالغ بھی نہیں ہوا تھا اس مقام پر آکر چھوڑ دیا۔اس وقت تک ابھی زمزم کا چشمہ بھی نہیں پھوٹا تھا۔بالکل وادی غیر ذی زرع کی سی حالت تھی۔نہ اس میں پانی کا کوئی سامان تھا۔صرف ایک مشکیزہ پانی اور ایک تھیلی خشک کھجوروں کی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان کے پاس رکھ دی اور اللہ تعالی کے حکم کے ماتحت وہ اپنی بیوی اور بچے کو وہاں چھوڑ کر واپس چل پڑے۔انہوں نے اپنی بیوی کو بتایا نہیں کہ میں تمہیں یہاں اکیلے چھوڑ کر جارہا ہوں کیونکہ انہیں خیال گزرا کہ ماں کی مامتا اپنے بچہ کی تکلیف کی وجہ سے شاید اس کی برداشت نہ کر سکے۔جب حضرت ابراہیم علیہ السلام چلے تو آپ نے اس محبت کی وجہ سے جو طبعاً انسان کو اپنی بیوی اور بچے سے ہوتی ہے تھوڑی تھوڑی 901