نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 902 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 902

دیر کے بعد انہیں مُڑ کر دیکھنا شروع کر دیا۔پہلے تو وہ اس رنگ میں باتیں کرتے رہے کہ بیوی کو یہ شبہ پیدا نہ ہوا کہ میں انہیں چھوڑ کر جا رہا ہوں اور جب وہاں سے واپس چلے تو واپس کو ٹتے وقت بھی اس انداز میں واپس گئے جیسے کوئی ایندھن اکٹھا کرنے جاتا ہے یا پانی کا انتظام کرنے کے لئے جاتا ہے۔مگر جب چل پڑے تو ان سے برداشت نہ ہوسکا اور تھوڑے فاصلہ پر جا کر انہوں نے اپنی بیوی اور بچے کی طرف دیکھا اور پھر چلے اور چند قدم اٹھائے تو محبت نے غلبہ پایا اور انہوں نے اپنی بیوی اور بچے پر نظر ڈالی۔حضرت ہاجرہ اپنے خاوند کی ان حرکات سے سمجھ گئیں کہ یہ جدائی عارضی نہیں بلکہ معلوم ہوتا ہے یہ مستقل طور پر جا رہے ہیں۔کیونکہ ان رض کے چہرے پر رقت کے آثار تھے اور ان کی آنکھوں میں آنسو آئے ہوئے تھے۔حضرت ہاجرہ نے سمجھ لیا کہ بات کچھ اور ہے۔وہ گھبرا کر اٹھیں اور حضرت ابراہیم کے پاس گئیں اور کہا کہ کیا آپ ہم کو چھوڑے چلے جار ہے ہیں۔حضرت ابراہیم رقت کی وجہ سے کوئی جواب نہ دے سکے۔ان کا گلا پکڑا گیا۔ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور انہوں نے اپنا منہ پھیر لیا۔حضرت رض رض باجرہ کو یقین آ گیا کہ اب یہ ہم کو مستقل طور پر چھوڑے چلے جارہے ہیں۔چونکہ حضرت ہاجرہ کا پہلے بھی اپنی سوت کے ساتھ جھگڑا ہو چکا تھا اس لئے انہیں خیال آیا کہ شاید یہ اس کی وجہ سے نہ ہو۔پھر خیال آیا کہ چونکہ حضرت ابراہیم اللہ تعالیٰ کے نبی ہیں اس لئے شاید اللہ تعالیٰ نے ہی ان کو اس بات کا حکم نہ دیا ہو۔چنانچہ انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہا کہ اللہ امرك۔کیا خدا نے آپ کو حکم دیا ہے کہ ایسا کرو۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اثبات میں سر بلاد یا۔مگر غم کی وجہ سے ان سے بات نہیں کی گئی۔حضرت ہاجرہ نے یہ سن کر کہا اگر خدا نے آپ کو یہ حکم دیا ہے تو خدا ہم کو چھوڑے گا نہیں۔آپ بیشک چلے جائیں۔جس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی بیوی اور بیٹے کو وہاں چھوڑا ہے اُس وقت مکہ کوئی شہر نہیں تھا۔وہاں کھانے کی کوئی چیز نہیں تھی۔صرف ایک مشکیزہ پانی کا اور ایک تھیلی کھجوروں کی وہ انہیں دے کر واپس چلے گئے اور اس لئے گئے کہ خدا نے ان سے کہا تھا کہ تو اپنے بیٹے کو ہماری راہ رض 902