نُورِ ہدایت — Page 868
اس جگہ ہزار آیات سے قرآن کریم کا چھٹا حصہ مراد نہیں ( کیونکہ سارے قرآن کی قریبا چھ ہزار آیات ہیں) بلکہ مطلب یہ ہے کہ جو غرض قرآن ہے وہ اِس سورۃ میں بیان کر دی ہے۔کیونکہ عربی زبان میں ہزار سے صرف ہزار کا عدد مراد نہیں ہوتا بلکہ ان گنت اور بے انتہا چیز کے لئے بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔اور ان گنت اور بے انتہا فائدہ انسان اسی وقت اٹھا سکتا ہے جب وہ اس غرض کو سمجھ جائے جس کے ماتحت اللہ تعالیٰ نے سلسلہ نبوت قائم کیا ہے اور جس کو پورا کرنے کے لئے آدم سے لے کر وہ اپنے مامورین دنیا کی اصلاح کے لئے بھیجتا رہا ہے۔پس رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ یہ سورۃ ہزار آیات کے برابر ہے اس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر تم اس سورۃ پر غور کرو اور اس کے مطالب کو ہمیشہ اپنے مدنظر رکھو تو تمہارے متعلق یہ کہا جا سکے گا کہ تم نے اس سورۃ سے وہ فائدہ اُٹھا لیا جو سارے نبیوں کی بعثت کی اصل غرض ہے۔نبیوں کی بعثت کی غرض یہ ہوتی ہے کہ دنیا کی محبت لوگوں کے دلوں سے نکال دیں اور اللہ تعالی کا عشق اُن میں پیدا کریں۔پس جب کوئی شخص اس سورۃ پر غور کرے گا اور حالتِ سیئہ سے کوٹ کر حالت طیبہ کی طرف آئے گا تو لازما وہ اس مقصد کو حاصل کر لے گا جس کے لئے قرآن کریم نازل ہوا اور جس کو پورا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ابتدائے عالم سے سلسلہ نبوت قائم فرمایا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اپنی کتابوں اور تقریروں میں اس بات پر بڑا زور دیا ہے کہ انبیاء کی بعثت کی اصل غرض یہ ہوتی ہے کہ دنیا کی محبت سرد کر کے خدا تعالیٰ کی محبت لوگوں کے قلوب میں پیدا کریں۔پس سورۃ تکاثر نبوت کی اصل غرض بیان کرنے والی سورۃ ہے اور جو شخص اس سورۃ کے مطالب کو اپنے مدنظر رکھتا ہے وہ اپنی حالت کو نبیوں کی حالت کے مشابہ بنالیتا ہے۔جب کوئی چیز انسان کی توجہ کو ایک طرف سے ہٹا کر دوسری طرف پھیر دے تو عربی زبان میں اس کے لئے انھی کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔التکاثُر کثرت سے نکلا ہے اور اس کے 868