نُورِ ہدایت — Page 869
معنے کثرت میں مقابلہ کرنے کے ہوتے ہیں۔مفردات میں لکھا ہے الْهُكُمْ آئی شَغَلَكُمْ التَّبَارِى فِي كَثْرَةِ الْمَالِ وَالْعِزّ - تکاثر کے معنے ہوتے ہیں ایک دوسرے کا مقابلہ مال اور عزت کی کثرت میں کرنا۔یعنی یہ کہنا کہ ہمارا مال زیادہ ہے یا ہماری عزت زیادہ ہے۔تم ہمارے مقابلہ میں حیثیت ہی کیا رکھتے ہو۔پس آلهُكُمُ التَّكَاثُرُ کے معنے یہ ہوئے کہ تم کو ایک دوسرے سے مال، عزت اور تعداد میں زیادہ ہونے کے فخر نے غافل کر دیا ہے یا بعض دوسری چیزوں سے تمہاری توجہ ہٹا کر اپنی طرف پھیر لیا ہے۔محاورہ زبان میں ہمیشہ انھی کے بعد عن آتا ہے یعنی الْهَادُ عَنْ كَذَا۔اسی طرح تکاثر کے بعد فی آتا ہے یعنی جس چیز کے بارہ میں فخر ہے اس سے پہلے فی آتا ہے اور جس چیز سے کوئی چیز غافل کر دے اس سے پہلے عج آتا ہے۔مگر قرآن کریم نے دونوں صلوں کو چھوڑ دیا ہے۔یعنی اس نے نہ تو یہ کہا ہے کہ تم کو پکا شر نے کسی چیز سے غافل کر دیا ہے اور نہ یہ کہا ہے کہ تمہیں اپنی کسی چیز کی کثرت سے مغرور بنادیا ہے۔درحقیقت دونوں صلوں کو چھوڑ دینے سے ایک بہت بڑا مضمون بیان کیا گیا ہے۔۔۔۔اگر اس چیز کا بھی ذکر کر دیا جاتا جس سے تکاثر نے ان کو غافل کر دیا تھا تو مضمون محدود ہو جاتا اور اس اجمال میں جو فصاحت پائی جاتی ہے وہ جاتی رہتی کیونکہ تکا ترکسی ایک نیک بات سے نہیں بلکہ ہر نیک بات سے انسان کو غافل کر دیتا ہے۔تکاثر کے معنے ہوتے ہیں ذاتیات کا غلبہ۔آخر دنیا میں کیوں ایک انسان دوسرے پر فخر کرتا ہے۔اسی لئے کہ بجائے اللہ تعالیٰ کا فضل دیکھنے کے وہ اپنی ذات کی بڑائی دیکھنے لگ جاتا ہے۔وہ اس بات کو بھول جاتا ہے کہ اگر اس میں کوئی خوبی پائی جاتی ہے تو وہ خدا تعالیٰ کی عطا کردہ ہے۔اگر اس میں کوئی کمال پایا جاتا ہے تو وہ خدا تعالیٰ کا عطیہ ہے۔اس کی نگاہ ان تمام باتوں کو نظر انداز کر کے صرف ذاتی بڑائی کو اپنے سامنے رکھ لیتی ہے اور وہ خیال کرتا ہے کہ اس نے جو کچھ حاصل کیا ہے اپنے زورِ بازو سے حاصل کیا ہے۔پس دوسروں پر فخر کرنے کا سب سے پہلا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان کے سامنے صرف اس کی ذاتی بڑائی رہ جاتی ہے 869