نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 848 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 848

گئے ہیں۔پس جہاں تک زمین بلنے کا سوال ہے ان ایام میں زمین ایسی ہلی ہے کہ دنیا میں اس کی ایسی نظیر نہیں ملتی کیونکہ پہلے صرف زلزلوں سے جو ممکن ہے بعض موجودہ زلزلوں سے بھی بڑے ہوں زمین ہلا کرتی تھی مگر اب (1) زلزلوں سے اور متواتر زلزلوں سے اور عالمگیر زلزلوں سے ہل رہی ہے (2) تو پوں، ہوائی جہازوں کے بموں، ڈائینا میٹ اور اب ایٹم بموں کے ذریعے سے جو ساری دنیا اور ہر خطہ زمین پر اثر انداز ہوئے ہیں زمین ہلی ہے اور بہت بُری طرح ہلی ہے اور یہ اشیاء پہلے زمانہ میں موجود ہی نہیں تھیں اسی زمانہ میں ایجاد ہوئی ہیں (3) ریلوں ، زمین دوز ریلوں اور کارخانوں کی وجہ سے جو قطب شمالی سے قطب جنوبی تک اور مغرب سے مشرق تک پھیلے ہوئے ہیں زمین روز و شب ہل رہی ہے اور اگر یہی ترقی جاری رہی تو ملتی چلی جائے گی۔دوسرے معنے اہل زمین کے ہیں۔اگر ہم دیکھیں تو وہ بھی اس طرح ہلائے گئے ہیں کہ اس سے پہلے کبھی نہیں بلائے گے۔انسانوں کے ہلنے کے یہ معنے ہوا کرتے ہیں۔اؤل لوگوں میں بیداری پیدا کی جائے۔دوم لوگوں میں خوف پیدا کیا جائے۔سوم لوگوں میں غیر معمولی تبدیلی پیدا ہو جو علاوہ اور اقسام کے مندرجہ ذیل امور سے ہوا کرتی ہے (الف) سیاسیات میں تبدیلی کی وجہ سے (باء) معاشیات میں تبدیلی کی وجہ سے (ج) مذہبیات میں تبدیلی کی وجہ سے ( د ) اخلاقیات میں تبدیلی کی وجہ سے ( ح ) علوم میں تبدیلی کی وجہ سے ( و ) اقتصادیات میں تبدیلی کی وجہ سے۔یہ سارے کے سارے امور اہل دنیا کو بلانے کے اس زمانے میں ظاہر ہورہے ہیں۔وَأَخْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقَالَهَا - ثقل کے معنے بوجھ کے بھی ہوتے ہیں اور قیمتی شے کے بھی۔وہ شے جس کی حفاظت کی جائے۔اسی طرح زمین کے خزانہ کو بھی نقل کہتے ہیں۔ان معنوں کے رُو سے اس آیت کا مفہوم ہوگا کہ : اول : زمین اپنے بوجھ اتار کر پھینک دے گی یعنی بادشاہتوں اور حکومت امراء کو جو غرباء پر 848