نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 829 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 829

اور ثُمَّ رَدَدْنَاة اور الَّا الَّذِينَ آمَنُوا میں بالظهور قوی کا ذکر ہے۔یعنی بالقوہ تو سب کو اچھے قویٰ ملے ہیں مگر جب ان کا ظہور ہوتا ہے تو دو طرح ہوتا ہے۔یا تو انسان مومن بن جاتا ہے اور یا کافر بن جاتا ہے۔مومن بن کر اوپر کونکل جاتا ہے اور کافر بن کر نیچے کی طرف گر جاتا ہے۔إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ فَلَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍ باستثناء ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور جنہوں نے مناسب حال عمل کئے سو اُن کے لئے ایک نہ ختم ہونے والا ( نیک ) بدلہ ہوگا۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کا استثنا کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ وہ لوگ جو ایمان لاتے اور اعمال صالحہ کی بجا آوری میں ہمیشہ مشغول رہتے ہیں ان کو ہم أَسْفَلَ سَافِلِين میں نہیں لوٹاتے۔کیونکہ وہ فطرت کو صحیح راستہ پر چلاتے اور اپنی قوتوں کا جائز اور برمحل استعمال کرتے ہیں۔یہاں سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے احسن تقویم کے ذکر میں ثُمَّ رَدَدْنَاهُ أَسْفَلَ سافلین کو پہلے کیوں رکھا ہے۔اور إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ کا ذکر پیچھے کیوں کیا ہے؟ اور اس تقدیم و تاخیر میں کیا حکمت ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ایمان اور اعمال صالحہ چونکہ طبعی اور فطری قوی کے صحیح استعمال کا نام ہے اور جو شخص احکام الہیہ پر ایمان لاتا ہے اور پھر ان کے مطابق اعمال صالحہ بھی بجالاتا ہے وہ در حقیقت اس راستہ پر چلتا چلا جاتا ہے جو فطرت کا راستہ ہے اور اس کے نتیجہ میں اسے مذہب جیسی نعمت حاصل ہوتی ہے۔اور وہ ایمان اور اعمال کی برکات سے متمتع ہوتا ہے۔اس لئے ضروری تھا کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کا الّا کہہ کر علیحدہ ذکر فرماتا۔اور اس طرح اسفل سَافِلِین میں جانے والوں اور فطری استعدادوں سے صحیح طور پر کام لینے والوں میں ایک ما بہ الامتیا ز قائم ہو جاتا۔رہا یہ سوال کہ آسفل سافلین میں گرنے والوں کا پہلے کیوں ذکر کیا ہے؟ اس کا جواب یہ 829