نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 830 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 830

ہے کہ چونکہ وہ لوگ اپنی پیدائش کے مقصد کو فراموش کرنے والے تھے اس لئے ضروری تھا کہ جب یہ ذکر کیا گیا تھا کہ ہم نے انسان کو معتدل القویٰ پیدا کیا ہے اور اس کی فطرت میں نیکی اور بھلائی کی قوتیں رکھ دی ہیں وہاں ساتھ ہی اس شبہ کا ازالہ بھی کر دیا جاتا کہ اگر ایسا ہے تو بعض لوگ بدکیوں ہوتے ہیں۔چنانچہ اس کا جواب یہ دیا ہے کہ گوہم نے انسان کو اسی مقصد کے لئے پیدا کیا ہے مگر پھر بھی بعض لوگ چونکہ اپنی فطرت کو مسخ کر دیتے اور اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ قوتوں کا ناجائز استعمال کرتے ہیں وہ مقام رفعت سے گر کر ذلت اور ادبار کے گڑھے میں جا پڑتے ہیں اور انسانیت کے لئے ان کا وجود ننگ و عار کا باعث بن جاتا ہے۔یہ ان کا اپنا قصور ہوتا ہے خدا تعالیٰ اس کا ذمہ دار نہیں۔اس کے بعد إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ فَلَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونَ کہہ کر ایمان لانے والوں اور عمل صالحہ کی بجا آوری میں مشغول رہنے والوں کا استثنی کردیا اور بتادیا کہ جولوگ احسن تقویم پر قائم رہتے اور اس رستہ پر چلتے چلے جاتے ہیں جو فطرت صحیحہ کا ہے اللہ تعالیٰ ان کو دولتِ ایمان سے مشرف کر دیتا ہے۔اور انہیں اس بات کی بھی توفیق عطا فرما دیتا ہے کہ وہ اعمال صالحہ بجالائیں۔گویا ایمان اور عمل صالح کا راستہ فطرت صحیحہ کی لائن کے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔جو لوگ فطرت کو بگاڑ لیتے ہیں اور اپنے قویٰ استعداد یہ سے صحیح رنگ میں کام نہیں لیتے وہ تو اسفل سافلین میں جا گرتے ہیں لیکن وہ لوگ جو فطری اور طبعی راستہ پر چلتے چلے جاتے ہیں، اپنی قوتوں کو برمحل استعمال کرتے ہیں اور فطرت کو مسخ کرنے کی کوشش نہیں کرتے ان کو ایمان بھی عطا کیا جاتا ہے اور ان میں اعمال صالحہ بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔ایسے لوگ آسفل سافلین میں نہیں لوٹائے جاتے بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو غیر ممنون یعنی جزائے غیر مقطوع حاصل ہوتی ہے۔اور اس طرح صحیح علم اور اس کے صحیح استعمال کی وجہ سے وہ ہمیشہ کے لئے اعلیٰ انعامات کے مستحق ہو جاتے ہیں۔امَنُوا میں صحیح علم کی طرف اشارہ ہے یعنی وہ علم جو مناسب حال ہو اور عملوا الصلحت میں اس 830