نُورِ ہدایت — Page 769
فرماتا ہے اس الہام کے بعد جو شخص اس کی پیروی کر کے اپنے نفس کو ٹھیک راہ پر چلاتا ہے وہ بامراد ہو جاتا ہے یعنی الہام فطرت جو مجمل الہام ہوتا ہے اس کی پیروی اور اطاعت کا یہاں ذکر کیا گیا ہے۔یہ امر یا درکھنا چاہئے کہ نبی کا الہام تفصیلی ہوتا ہے لیکن فطرت کا الہام مجمل ہوتا ہے۔یہاں تفصیلی الہام کا ذکر نہیں بلکہ مجمل الہام کا ذکر ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فجور اور تقویٰ کا وہ مجمل علم جو انسان کو ملا تھا اور جس کے مطابق وہ سمجھتا تھا کہ دنیا میں کچھ بری چیزیں ہیں اور کچھ اچھی چیزیں ہیں، مجھے بری چیزوں سے بچنا چاہئے اور اچھی چیزوں کو اختیار کرنا چاہئے۔جو شخص اس مجمل علم کو صحیح طور پر استعمال کرتا ہے اور فطرت کی اس راہنمائی کے ماتحت اپنے نفس کو اونچا کرتا ہے وہ فلاح پالیتا ہے یعنی اپنے خدا سے واصل ہو کر صاحب الہام ہو جا تا ہے۔ان معنوں کے لحاظ سے قد أفلح میں وحی حقیقی کے پانے کا ذکر ہے اور الْهَمَهَا میں وحی مجمل کے نازل ہونے کا بیان ہے جو ہر فطرت انسانی پر نازل ہوتی ہے۔رسٹی کے معنے اونچا کرنے کے بھی ہوتے ہیں اور ڈسٹی کے معنے پاک کرنے کے بھی ہوتے ہیں۔اس جگہ نفس کو اونچا کرنے کے معنے چسپاں ہوتے ہیں کیونکہ ایسا شخص فجور اور تقویٰ کی حس سے کام لے کر فطرت کے مقام سے بلند ہو کر اخلاقی زندگی میں داخل ہو جاتا ہے اور پھر اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ خود صاحب الہام ہو جاتا ہے۔وَقَدْ خَابَ مَنْ دَشْهَا اور جس نے اسے (مٹی میں گاڑ دیا ( سمجھو کہ ) وہ نامراد ہو گیا۔حمد اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ مضمون بیان فرمایا ہے کہ جس نے اس وحی کو نہ مانا وہ نا کام ہوا کیونکہ وحی الہی فطرت کی طاقتوں کو ابھارنے کے لئے آتی ہے جس نے اسے رد کر دیا اُس نے اپنے نفس پر ظلم کیا اور اپنے آپ کو بلاک کر لیا۔دوسرے مذاہب فطرت کی بعض طاقتوں کو کچلتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ نیکی ہے مگر اسلام اسے نیکی قرار نہیں دیتا۔اسلام یہ کہتا ہے اللہ تعالیٰ نے تمہارے اندر جو قوتیں پیدا کی ہیں 769