نُورِ ہدایت — Page 755
ایک متقی چاہتا ہے کہ وجہ حلال کی قوت کے لئے کوئی سبیل مجھے حاصل ہو تو اس بارہ میں اس کو بھی کوئی طریق بتلایا جاتا ہے۔سو عام طور پر اس کا نام الہام ہے جو کسی نیک بخت یا بد بخت سے خاص نہیں بلکہ تمام نوع انسان اور جمیع افراد بشر اس علۃ العلل سے مناسب حال اپنے اس الہام سے مستفیض ہورہے ہیں۔(ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 597، 598) خدا تعالیٰ نے انسان کے لئے ابتلا کے طور پر دو روحانی داعی مقرر کر رکھے ہیں۔ایک داعی خیر جس کا نام روح القدس ہے اور ایک دائی شر جس کا نام ابلیس اور شیطان ہے۔یہ دونوں دائی صرف خیر یا شر کی طرف بلاتے رہتے ہیں مگر کسی بات پر جبر نہیں کرتے جیسا کہ اس آیت کریمہ میں اسی امر کی طرف اشارہ ہے فَالْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقُوهَا۔یعنی خدا بدی کا بھی الہام کرتا ہے اور نیکی کا بھی۔بدی کے الہام کا ذریعہ شیطان ہے جو شرارتوں کے خیالات دلوں میں ڈالتا ہے اور نیکی کے الہام کا ذریعہ روح القدس ہے جو پاک خیالات دل میں ڈالتا ہے اور چونکہ خدا تعالیٰ علت العلل ہے اس لئے یہ دونوں الہام خدا تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب کر لئے کیونکہ اسی کی طرف سے یہ سارا انتظام ہے ورنہ شیطان کیا حقیقت رکھتا ہے جو کسی کے دل میں وسوسہ ڈالے اور روح القدس کیا چیز جو کسی کو تقویٰ کی راہوں کی ہدایت کرے۔) آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 80، 81 حاشیہ) بلا شبہ وہ تمام عمدہ باتیں جن سے انسانوں کو نفع پہنچتا ہے خدا تعالیٰ کی طرف سے دل میں ڈالی جاتی ہیں جیسا کہ اللہ جل شانہ بھی در حقیقت اسی کی طرف اشارہ فرما کر کہتا ہے فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَ تَقُوهَا یعنی بُری باتیں اور نیک باتیں جو انسانوں کے دلوں میں پڑتی ہیں وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی الہام ہوتی ہیں اچھا آدمی اپنی اچھی طبیعت کی وجہ سے اس لائق ہوتا ہے کہ اچھی باتیں اس کے دل میں پڑیں اور بُرا آدمی اپنی بُری طبیعت کی وجہ سے اس لائق ٹھہرتا ہے کہ بُرے خیالات اور بد اندیشی کی تجویزیں اُس کے دل میں پیدا ہوتی رہیں اور در حقیقت نیک انسان اس قسم کے الہامات کے حاصل کرنے کے لئے فطرتاً ایک نیک ملکہ 755