نُورِ ہدایت — Page 735
کسائی تک نے کہا ہے کہ اس کے معنے بادل کے ہیں۔جیسا کہ صاحب محیط کہتے ہیں وَرُوِيَتْ عَنْ أَبِي عَمْرٍو وَأَبِي جَعْفَرٍ وَالْكَسَائِي وَقَالُوا إِنَّهَا السَّحَابُ عَنْ قَوْمٍ مِنْ أَهْلِ اللغة - لیکن لغت کی کتب لکھنے والوں نے اِن معنوں کو تسلیم نہیں کیا۔وہ یہی کہتے ہیں کہ لغت کے لحاظ سے اس کے حقیقی معنے اونٹوں کے ہی ہیں۔میں بھی پہلے اس آیت میں اہل کے معنے اونٹوں کی بجائے بادل کے کیا کرتا تھا اور سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ اگر اہل کے معنے یہاں اونٹوں کے ہی کئے جائیں تو پھر اہل اور سماء میں جوڑ کیا ہوا۔اُس وقت بادل کے معنے زیادہ قرین قیاس معلوم ہوتے تھے۔لیکن اب جو میں نے غور کیا تو یہی بات ٹھیک نکلی کہ اس آیت میں اہل کے معنے اونٹوں کے ہی ہیں۔پہلے میں اس آیت پر صرف اسی آیت کو سامنے رکھ کر غور کرتا رہا ہوں۔لیکن اب جو میں نے ترتیب آیات کے لحاظ سے غور کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ اونٹوں کا سماء کے ساتھ تو جوڑ نظر آتا ہے مگر بادل کا کوئی جوڑ نہیں۔جیسا کہ مفردات والوں اور صاحب کشاف نے لکھا ہے یہ درست معلوم ہوتا ہے کہ اہل کے معنے جن لوگوں نے بادل کے کئے ہیں فَعَلى تَشْبِيْهِ السَّحَابِ یعنی وہ اس وجہ سے کئے ہیں کہ اونٹ اس طرح اونچے نیچے چلتے ہیں جس طرح بادل چلتا ہے۔پس چونکہ اہل کو چلنے کے لحاظ سے بادلوں سے مشابہت ہوتی ہے اس لئے محاورہ میں اہل کا لفظ بادل کے لئے استعمال کیا جانے لگاور نہ ابل کے اصل معنے بادل کے نہیں ہیں۔أَفَلَا يَنْظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ وَإِلَى السَّمَاءِ كَيْفَ رُفِعَتْ میں مضمون نیچے سے اوپر گیا ہے۔اور اگلی آیت یعنی وَاِلَی الْجِبَالِ كَيْفَ نُصِبَتْ وَإِلَى الْأَرْضِ كَيْفَ سطحت میں مضمون اوپر سے نیچے آیا ہے۔اس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ یہاں دو الگ الگ مضمون بیان ہوئے ہیں۔ایک مضمون میں نیچے سے اوپر کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور دوسرے مضمون میں اوپر سے نیچے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔اگر ان آیات میں دو الگ الگ مضمون تسلیم نہ کئے جائیں تو پھر اہل ، سماء۔جبال اور ارض میں کوئی بھی ترتیب نظر نہیں آتی۔735