نُورِ ہدایت — Page 733
وَزَرَابِي مَبْثُوثَةٌ رائی کے معنے نمارق کے بھی ہوتے ہیں اور فرش کے بھی۔ذرائی کا واحد زربی بھی ہوتا ہے اور زربية بھی (اقرب) مَبْثُوثَةٌ بہت سے اسم مفعول کا صیغہ ہے اور بت کے معنے ہیں کسی چیز کو پھیلایا ( مفردات ) اور مَبْثُوثَةٌ کے معنے ہوں گے پھیلائے ہوئے۔زَرَابِي مَبْعُوثَةٌ کے یہ معنے ہیں کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ہر ملک میں عزت بخشے گا اور ہر قوم کے لوگ اُن کو اپنی آنکھوں پر بٹھائیں گے۔تمارِقُ مَصْفُوفَةٌ کے معنے تو یہ تھے کہ اُن کے ہر فرد کو عزت کے مقام پر بٹھایا جائے گا یعنی ساری کی ساری قوم معرہ زہوگی۔یہ نہیں ہوگا کہ کوئی ایک فرد معز ہو اور باقی لوگ ذلیل ہوں۔بلکہ ہر ایک کے پیچھے تکیہ لگا ہوا ہوگا۔اب زَرَابِی مَبْثُونَةٌ میں یہ بتاتا ہے کہ اُن کی دُنیا کے کونہ کونہ اور زمین کے گوشہ گوشہ میں عزت کی جائے گی۔زربیة کے معنے جیسا کہ بتائے جاچکے ہیں فرش کے ہوتے ہیں۔پس زَرَابِي مَبْثُوثَةٌ کے یہ معنے ہوں گے کہ مسلمانوں کے لئے ہر جگہ فرش بچھے ہوئے ہوں گے۔دنیا کے ہر کونہ میں وہ معزز ہوں گے۔اللہ تعالیٰ اُن کو ہر جگہ عزت دے گا اور ہر مقام پر اُن کی وجاہت کا لوگوں پر اثر پڑے گا۔یہی وجہ ہے کہ تمارق کے لئے مصفوفة کا لفظ استعمال کیا تھا۔اور ذرائی کے لئے مبحوثة کا لفظ استعمال کیا ہے۔مَصْفُوفَة کے معنے ہوتے ہیں صف میں رکھے ہوئے اور مَصْفُوفَة کہنے سے مطلب یہ تھا کہ جب مسلمان مجالس میں حاضر ہوں گے سب کے سب عزت کے مقام پر بیٹھیں گے۔ان میں سے کوئی ذلیل نہ ہوگا۔لیکن ڈرائی میں کسی خاص مجلس کا ذکر نہیں بلکہ عام ذکر ہے اور بتایا گیا ہے کہ وہ جہاں جائیں گے لوگ اُن کے رستہ میں فرش بچھائیں گے۔اُن کا استقبال کریں گے۔اُن سے عزت کے ساتھ پیش آئیں گے اور چاہیں گے کہ وہ اُن کے گھروں میں رہیں اور اس طرح اُن کے لئے برکت کا باعث بنیں۔لوگ عموما ظاہر پر مرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ استقبال وہی ہوتا ہے جب بڑی بڑی قالینیں 733