نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 715 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 715

غرض اس آیت میں اللہ تعالیٰ اسلام کی ترقی کی خبر دیتے ہوئے فرماتا ہے ان کفار کو عَيْنٍ انية یعنی گرم چشمہ سے گھونٹ پینے پڑیں گے اور یہ ایسی خبریں سنیں گے جن سے ان کے سینے جلنے لگ جائیں گے۔ہم دیکھتے ہیں کہ واقعہ میں اگر کوئی شخص کسی مذہب کو سچے دل سے قبول کرتا ہے تو اس کی اولاد کا اس سے پھرنا اس کے لئے انتہائی طور پر ڈکھ کا موجب ہوتا ہے۔عقلی طور پر اگر اولا د مذہب سے منحرف ہو جاتی ہے تو اس میں کوئی حرج کی بات نہیں، مذہب کے معاملہ میں جبر سے کام نہیں لیا جا سکتا۔حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹا اگر اُن کا مخالف ہو سکتا ہے تو دوسرے لوگوں کی اولادیں بھی اپنے باپ دادا کے مذہب سے انحراف اختیار کر سکتی ہیں۔مگر جہاں کوئی اور قائم مقام نہ ہو اور وہ اولا دجس سے انسان کی امیدیں وابستہ ہوں اپنے باپ دادا کے مذہب کو ترک کر دے تو یہ ایک ایسا تلخ گھونٹ ہے جس کا پینا انسانی طاقت برداشت سے بالکل باہر ہوتا ہے۔غرض اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ کفار ایسے حالات میں سے گذریں گے کہ اُن کو بڑے بڑے تلخ گھونٹ پینے پڑیں گے۔یہ سورۃ دونوں زمانوں کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔اسلام کے ابتدائی زمانہ کے ساتھ بھی اور موجودہ زمانہ کے ساتھ بھی۔تُشفى مِن عَيْنٍ آنِيَةٍ میں کفار کے متعلق اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو خبر دی گئی تھی وہ اس زمانہ میں بھی بڑی صفائی کے ساتھ پوری ہوتی ہے۔الطَّرِيعُ الطَّرِيعُ نَبَاتُ رَطْبُهُ يُسمى شِبْرَقًا وَيَابِسُهُ ضَرِيعًا لَا تَقْرُبُهُ دَابَّةٌ لخبيثه۔یعنی ضریع گھاس کی ایک قسم ہوتی ہے جب تک وہ گھاس تازہ رہے اُسے شہرق کہتے ہیں اور جب سوکھ جائے تو ضریع کہتے ہیں۔ضریع ایسی گندی چیز ہوتی ہے کہ جانور بھی اس کو نہیں کھاتے۔اسی طرح ضریح ایسی گھاس کو بھی کہتے ہیں جو سمندر کے کنارے اگ آتا ہے مگر چونکہ نہایت گندہ اور بد بودار ہوتا ہے لوگ اسے کاٹ کر پانی میں بہا دیتے ہیں۔اسی طرح ہر درخت کی سوکھی ٹہنی یا سوکھے پتوں کو بھی ضریح کہتے ہیں۔اسی طرح سڑے ہوئے پانی میں ایک بوٹی ہوتی ہے اس کو بھی ضریع کہتے ہیں۔(اقرب) 715