نُورِ ہدایت — Page 714
اُن کے جسم بھی مرجھا جائیں گے۔کھولتا ہوا چشمہ آخرت میں تو ہوگا ہی۔دنیا میں کھولتے ہوئے چشمہ سے مراد وہ چیز ہوتی ہے جس سے دل کو آگ لگ جائے۔مطلب یہ ہے کہ کفار کو ایسے مصائب پہنچیں گے اور ایسے حالات میں سے وہ گزریں گے کہ اُن کے دل جل جائیں گے۔یہ عَيْنِ انيَة ہی تھا کہ اُن کی اولاد میں مسلمان ہو گئیں اور جس مذہب کو مٹانے کے لئے وہ کھڑے ہوئے تھے اسی مذہب میں اُن کے بیٹے شامل ہو گئے۔جب وہ اپنی اولادوں کو اسلام میں شامل ہوتے دیکھتے ہوں گے تو کس طرح اُن کے دل جلتے ہوں گے کہ ہم کیا چاہتے تھے اور کیا ہو گیا۔ہمارے ہاں بھی محاورہ کے طور پر کہا جاتا ہے کہ میں تو غم کے گھونٹ پی رہا ہوں۔گویا غم کی چیزوں کو بھی پینے سے مشابہت دی جاتی ہے۔عربی زبان میں بھی غم کے گھونٹ پینا محاورہ کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔پس فرماتا ہے اُن کو گرم اور تیز گھونٹ پلائے جائیں گے۔یعنی ایک طرف اُن کی اولادیں اور دوسری طرف غلام مسلمان ہونے لگ جائیں گے جس کا اُن کو شدید صدمہ پہنچے گا۔قرآن کریم میں اس حقیقت کو دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے اَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ تَأْتِي الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطرافها (الرعد 42) یعنی یہ لوگ جو کہتے ہیں کہ ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر غالب آجائیں گے، آپ کے دین کو مٹادیں گے اور مسلمانوں کو شکست دے دیں گے، کیا ان اندھوں کو یہ بات نظر نہیں آتی کہ ہم زمین کو اُس کے کناروں سے چھوٹا کرتے چلے آرہے ہیں۔ادھر غلام اسلام میں داخل ہورہے ہیں اور اُدھر نوجوان اسلام کو قبول کر رہے ہیں۔جب غلام اور نوجوان دونوں اسلام میں داخل ہو گئے تو پیچھے سوائے بڑھوں کے کون رہ جائے گا۔یہ بُڈھے چند سالوں میں مر کر فنا ہو جائیں گے اور ان کی نسلیں اسلام میں شامل ہو جائیں گی۔دنیا میں طاقت کے یہی دوز رائع ہوتے ہیں۔ایک غلام جو ہاتھ ہوتے ہیں اور دوسری آئندہ نسلیں جو جڑ ہوتی ہیں۔جب اُن کے پاس نہ ہاتھ رہے اور نہ جڑ تو درمیان کا ٹھنڈ کیا کرے گا۔714