نُورِ ہدایت — Page 702
جامع الصفات چیزیں دوسری ہیں نہیں جو فہمائش کے لئے پیش کی جائیں۔لَسْتَ عَلَيْهِمْ مُصَيْطِرٍ (ضمیمه اخبار بدر قادیان یکم اگست 1912ء) مُصَيْ رس اور ص دونوں سے لکھا جاتا ہے۔اس کے معنے جابر کے ہیں۔نبی کا کام صرف تبلیغ کر دینا ہے۔جو نہ مانے ان پر نبی جبر نہیں کیا کرتے۔فَيُعَذِّبُهُ اللهُ الْعَذَابَ الْأَكْبَرَ۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان یکم اگست 1912ء) اس آیت شریفہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قحط کے عذاب کے علاوہ کوئی اور بھی عذاب ہے جس کا نام عذاب اکبر رکھا ہے۔دوسری جگہ فرمایا۔وَلَنُذِيُقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْأَدْلى دُونَ الْعَذَابِ الْأَكْبَرِ (السجد 228) سورۃ دخان اور سورۃ المومنون میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وقت قحط کی آیتوں سے سورۃ الغاشیہ کے الفاظ ملتے جلتے ہیں۔اس لئے حَدِيث الْغَاشِيَة سے قحط شدید کی پیشگوئی ہم نے مراد لی ہے۔اور بھی سورۃ الغاشیہ میں ایسے الفاظ لائے گئے ہیں۔جیسے ضَرِيع لا يُسْمِنُ عَامِلَة نَاصِبَة وغیرہ قحط ہی کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔حدیث الغاشیہ سے بطور معارف کوئی اور بھی قسم عذاب کی مراد ہو تو ممکن ہے۔کیونکہ کلام الہی ذو المعارف ہوتا ہے۔تا وقتیکہ تضاد نہ ہو سارے ہی معارف صحیح سمجھے جا سکتے ہیں۔پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سورۃ الاعلی اور سورۃ الغاشیہ کو اکثر نماز جمعہ اور عیدین میں ان سورتوں کے ذوالمعارف ہونے کی وجہ سے تلاوت فرماتے تھے۔نماز عشاء میں بھی ان دو سورتوں کا کثرت سے پڑھنا آپ کا ثابت ہے۔ماخوذ از حقائق الفرقان زیر سورۃ الغاشیہ ) حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: (ضمیمه اخبار بدر قادیان یکم اگست 1912ء) اس سورۃ کا نام غاشیہ ہے اور یہ سورۃ بغیر کسی اختلاف کے ملی ہے۔702