نُورِ ہدایت — Page 670
لیتا ہے اُس وقت جھاگ میں مل کر اُن گلے سڑے پتوں کے جو بار یک باریک ذرات نکلتے ہیں اُن کو بھی عُشَاءِ باغقا کہتے ہیں۔(اقرب) آخوى به لفظ حوتی سے نکلا ہے۔حوی الشیخ کے معنے ہوتے ہیں گان به حوة اس میں کوہ پایا جاتا ہے (اقرب) اور حوق کے معنے ہوتے ہیں ایسی سیاہی جو سبزی کی طرف مائل ہو۔یا ایسی سُرخی جو سیاہی کی طرف مائل ہو۔(اقرب) پس آخوی کے معنے ہوئے ایسی سیاہ رنگ والی چیز جس میں کچھ سبزی کی جھلک پائی جاتی ہو۔یا ایسی سُرخ رنگ والی چیز جس میں کچھ سیاہی کی جھلک پائی جاتی ہو۔اگر صرف تقاء کا لفظ استعمال کیا جاتا تو اس کے معنے یہ ہوتے کہ وہ بیکار اور گندی چیز ہو جاتی۔مگر فقاء کے ساتھ خدا تعالیٰ نے آخوی کا لفظ بھی بڑھا دیا یہ بتانے کے لئے کہ وہ اتنی گندی اور خراب ہو جاتی ہے کہ اپنا رنگ بھی چھوڑ دیتی ہے۔سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسى امام راغب کہتے ہیں نسیان کے ایک معنے یہ ہیں کہ جس چیز کا خیال رکھنا انسان کے سپر دتھا اُس نے اُس کا خیال ترک کر دیا۔اِمَّا لِضُعْفِ قلبہ۔یا تو حافظہ کی خرابی کی وجہ سے یعنی وہ بھول گیا۔اَوْ عَنْ قَصْدٍ حَتَّى يَنْحَذِفَ عَنِ الْقَلْبِ ذِكْرُۂ۔اور یا جان بوجھ کر وہ اس کا خیال اپنے ذہن میں نہیں آنے دیتا۔یعنی وہ چیز اسے بھولی تو نہیں مگر اس پر عمل کرنا اُس نے چھوڑ رکھا ہے اور اُس کے ساتھ اس کا تعلق کم ہو گیا ہے۔گویا لغتا ترک عمل کے لئے بھی نسیان کا لفظ استعمال کیا جا سکتا ہے۔پس فلا تنسی کے دو معنے ہوئے ایک یہ کہ تم اُسے بھولو گے نہیں اور دوسرے یہ کہ تم اسے چھوڑو گے نہیں۔یعنی اُس پر عمل کرنا ترک نہیں کرو گے۔آج دنیا کے پردہ پر کوئی ایک کتاب بھی ایسی نہیں جس کے متعلق یہ دعویٰ کیا جا سکتا ہو کہ جس شکل وصورت میں اُس کتاب کو مذہب کے بانی نے پیش کیا تھا اسی شکل وصورت میں وہ 670