نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 615 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 615

بجالا کر دنیوی اور اُخروی فلاح کے لئے ہمیشہ کوشاں رہتے ہیں ان کے لئے اس دنیا کو بھی جنت بنا دیا جاتا ہے اور آخرت میں بھی ان کے لئے جنت مقدر ہوتی ہے۔خطبات ناصر جلد ششم صفحه 155 تا 157) حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ياَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوالله إِنَّ اللهَ خَبِيرٌ لِمَا تَعْمَلُونَ۔وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ نَسُوا اللَّهَ فَانْسُهُمْ أَنْفُسَهُمْ أَوْلَئِكَ هُمُ الْفُسِقُونَ (سورة الحشر 19-20) ان آیات کا ترجمہ ہے کہ : اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کا تقوی اختیار کرو اور ہر جان یہ نظر رکھے کہ وہ کل کے لئے کیا آگے بھیج رہی ہے۔اور اللہ کا تقوی اختیار کرو۔یقینا اللہ اس سے جو تم کرتے ہو ہمیشہ باخبر رہتا ہے۔اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے انہیں خود اپنے آپ سے غافل کر دیا۔یہی بدکردار لوگ ہیں ، فاسق لوگ ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ایک مومن کے لئے بنیادی شرط تقویٰ رکھی ہے۔اس بارے میں قرآن کریم میں بیشمار آیات ہیں جن میں تقویٰ اختیار کرو، تقویٰ پر قائم رہو کی تلقین مختلف حوالوں سے اللہ تعالیٰ نے فرمائی ہے، مختلف احکامات دیئے ہیں۔اور ان احکامات پر عمل کرنے والوں کو تقویٰ پر چلنے والا یا متقی کہا ہے۔اور عمل نہ کرنے والوں کو اُن کے انجام سے خوف دلایا۔تقویٰ کیا ہے؟ اس کی جو تعریف یا مختصر الفاظ میں خلاصہ جو قرآنِ کریم سے ہمیں ملتا ہے، وہ یہ لیا جا سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی رضا کو ہر چیز پر مقدم رکھتے ہوئے ، خدا تعالیٰ کو واحد ویگانہ اور سب طاقتوں کا منبع سمجھتے ہوئے اُس کے حقوق ادا کرنا اور خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے اُس کی مخلوق کے حقوق بھی ادا کرنا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کو ایک جگہ اس طرح بیان فرمایا ہے کہ : ” خدا تعالی کی امانتوں اور ایمانی عہدوں کی حتی الوسع رعایت کرنا اور سر سے پیر تک جتنے 615