نُورِ ہدایت — Page 614
زمانہ۔وہ بھی مستقبل ہی ہے یہ زندگی اُس زندگی کا مقابلہ نہیں کرسکتی کیونکہ وہ دائمی ہے۔متقی لوگ اس بات پر بھی نظر رکھتے ہیں کہ وہ اس زندگی میں اُس مستقبل کو سنوارنے کی کوشش کرتے رہیں تا کہ جب وہ مرنے کے بعد اُس زندگی میں داخل ہوں تو وہاں انہیں تکلیف نہیں بلکہ راحت میسر آئے اور وہ زندگی اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق آرام سے گزرے۔یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کس طرح اور کس طریق پر ہم مستقبل کو سنوار سکتے ہیں؟ دوسری آیت میں اس کا جواب دیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ مستقبل کو سنوارنے کا طریق یہ ہے کہ اپنے اللہ کو یا درکھو۔جو قو میں یا نسلیں اللہ کو یاد نہیں رکھتیں، اللہ تعالیٰ ایسے سامان کرتا ہے کہ وہ اپنے نفسوں کو بھول جاتی ہیں یعنی اپنی اور اپنی نسلوں کی فلاح پر ان کی نظر نہیں رہتی۔جہاں تک خدا تعالیٰ کو بھولنے کا تعلق ہے یہ دو طرح پر ہوتا ہے۔ایک بھولنا یہ ہے کہ ایسا شخص خدا تعالیٰ کی عبادت نہ کر کے، اس سے اس کی پناہ نہ مانگ کر، اس کے قہر اور غضب سے نہ ڈر کر، اس کی محبت اور اس کے پیار کی قدر نہ جان کر، اس کی صفات کا رنگ اپنے پر نہ چڑھا کر اس سے یکسر غافل ہو جاتا ہے۔ایک بھولنا خدا کو یہ ہے کہ اس نے جو احکام انسان کو اس کے اپنے نفس کے متعلق ، دوسرے بنی نوع کے متعلق ، معاشرہ کے متعلق ، اقتصادیات کے متعلق ، سیاست کے متعلق دیئے ہیں انہیں تو وہ نظر انداز کر دیتا ہے اور اپنی چلانے اور من مانی کرنے لگتا ہے۔خدا تعالیٰ کو بھولنے کا نتیجہ کیا ہوتا ہے؟ اس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے تیسری آیت میں کیا ہے اور بتایا ہے کہ ایسے لوگوں پر خدا کے غضب کی آگ بھڑکتی ہے۔وہ اس دنیا میں بھی خسارہ میں رہتے ہیں اور اگلے جہان میں بھی خسارہ ان کے لئے مقدر ہوتا ہے کیونکہ وہاں جہنم ان کا ٹھکانہ ہوگی۔برخلاف اس کے جولوگ تقویٰ اللہ پر قائم ہو کر خدا تعالیٰ کو ہمیشہ یادرکھتے ہیں، اُس کی عبادت بجالاتے ہیں ، اس سے اس کی پناہ طلب کرنے میں سُست نہیں ہوتے ، اپنے آپ کو اُس کی صفات کے رنگ میں رنگین کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اور اس کے جملہ احکام 614