نُورِ ہدایت — Page 601
حقیقت میں مسلمان ہو اور نام کے مسلمان نہیں بلکہ کامل فرمانبرداری اور اطاعت کا جذ بہ رکھتے ہوئے تم نے اسلام قبول کیا ہے تو یاد رکھو کہ تم پر کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔اور ان میں سے ایک ذمہ داری تبلیغ دین بھی ہے۔اور تبلیغ بھی اس وقت فائدہ مند ہوگی ، اس وقت اس کو بھی پھل لگیں گے جب تمہارے عمل بھی نیک ہوں گے۔پس ایک احمدی جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میں نے اس زمانے کے حکم اور عدل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اس لئے مانا ہے کہ میں کامل فرمانبرداروں میں شمار کیا جاؤں، اس لئے مانا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر عمل کروں، اس لئے مانا ہے کہ آج خدا تک پہنچنے کا راستہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہی دکھایا ہے تو پھر ہر وقت یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ تمام فیض بھی تبھی حاصل کر سکتے ہیں جب ان تمام حکموں پر بھی عمل کریں گے جو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیے اور جن کی طرف اس زمانے میں ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے توجہ دلائی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالی نے فرمایا تھا کہ میرا پیغام تمام دنیا کو پہنچا دو اور آپ کو سب سے بڑا داعی الی اللہ قرار دیا تھا۔فرماتا ہے دَاعِيًّا إِلَى اللهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا منيرا ( الاحزاب 47) یعنی اور اللہ کے حکم سے اس کی طرف بلانے والا اور ایک چمکتا ہوا سورج بنا کر بھیجا ہے۔پس اس چمکتے ہوئے سورج نے ہر طرف اللہ تعالیٰ کی تعلیم کی روشنی پھیلائی اور اپنا سب کچھ اس راہ میں قربان کر دیا۔اور اندھیروں کو دور کیا۔جہاں آپ نے دعوت الی اللہ کر کے خودان اندھیروں کو دور کیا وہاں اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق کہ وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مَن دَعَا إِلَى اللهِ (حم السجدہ 34 ) اپنے ماننے والوں کو بھی یہ نصیحت فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کے پیغام کو آگے پہنچاتے رہو۔اور تم دنیا میں جو بھی بات کرتے ہو ان میں سب سے زیادہ پیاری اور خوبصورت وہ باتیں ہوتی ہیں جب تم اللہ تعالی کا پیغام دوسروں تک پہنچارہے ہوتے ہو لیکن ساتھ یہ بات بھی ہر وقت ذہن نشین رکھنی 601