نُورِ ہدایت — Page 549
اِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلِئِكَةُ أَلا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَابِهِرُ وا بِالْجَنَّةِ الَّتِى كُنتُمْ تُوعَدُونَ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: جولوگ کہتے ہیں کہ ہمارا رب اللہ جلشانہ ہے پھر اپنی ثابت قدمی دکھلاتے ہیں کہ کسی مصیبت اور آفت اور زلزلہ اور امتحان سے اُن کے صدق میں ذرہ فرق نہیں آتا اُن پر فرشتے اُترتے ہیں یہ کہتے ہوئے کہ تم ذرہ خوف نہ کرو اور نہ غمگین ہو اور اس بہشت کے تصور سے شادان اور فرحان رہو جس کا تمہیں وعدہ دیا گیا ہے ہم تمہارے متولی اور تمہارے پاس ہر وقت حاضر اور قریب ہیں کیا دُنیا میں اور کیا آخرت میں۔( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 98) جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے اور پھر استقامت اختیار کی ان کی یہ نشانی ہے کہ ان پر فرشتے اترتے ہیں یہ کہتے ہوئے کہ تم مت ڈرو اور کچھ غم نہ کرو اور خوشخبری سنو اس بہشت کی جس کا تمہیں وعدہ دیا گیا تھا ہم تمہارے دوست اور متوئی اس دنیا کی زندگی میں ہیں اور نیز آخرت میں اور تمہارے لئے اس بہشت میں وہ سب کچھ دیا گیا جو تم مانگو یہ مہمانی ہے غفور رحیم سے۔اب دیکھتے اس آیت میں مکالمہ الہیہ اور قبولیت اور خدا تعالیٰ کا متولی اور متکفل ہونا اور اسی دنیا میں بہشتی زندگی کی بناڈالنا اور ان کا حامی اور ناصر ہونا بطور نشان کے بیان فرمایا گیا۔( جنگ مقدس، روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 145 146) وہ لوگ جنہوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے اور باطل خداؤں سے الگ ہو گئے پھر استقامت اختیار کی۔یعنی طرح طرح کی آزمائشوں اور بلا کے وقت ثابت قدم رہے۔ان پر 549