نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 499 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 499

ہیں۔عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلَّمَ قَالَ تَشْهَدُهُ مَلَائِكَةُ الَّيْلِ وَمَلَائِكَةُ النّهَارِ (الحدیث) اس کا مطلب یہ ہے کہ صبح کی نماز خاص طور پر اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کی جاتی ہے۔اور خاص ہی طور سے مقبول ہوتی ہے کیونکہ اس وقت انسان میٹھی نیند کو چھوڑ کر اٹھتا ہے۔صبح کی نماز در اصل عام مسلمان کی تہجد ہی کی نماز ہے۔بلاشبہ جو انسان صبح کی نماز پڑھے گا۔اگر اس نے وہ نماز ایمانداری سے پڑھی ہوگی تو باقی نمازیں بھی اس کے لئے آسان ہو جائیں گی۔لسان العرب میں لکھا ہے کہ تجد القَوْم کے معنی لوگوں کے سونے کے بعد نماز وغیرہ کے لئے بیدار ہونے کے ہیں۔نافلة - لفظ نافِلَه نَفَل سے اسم فاعل مؤنث بمعنی مفعول ہے یعنی دی ہوئی چیز۔دیا ہوا انعام - النَّافِلَةُ کے معنى الْغَنِيمَةُ - غنیمت الْعَطِيَّةُ بخشش مَا تَفْعَلُهُ مما لا يجب - فرض سے زائد عمل کرنا۔وَلَد الولد۔پوتا۔اس کی جمع نوافل آتی ہے۔تهجد به میں کی ضمیر قرآن کریم کی طرف پھرتی ہے اور مراد یہ ہے کہ اس نماز میں تلاوت قرآن پر خاص زور ہونا چاہئے۔تہجد کے معنے سو کر اٹھنے کے ہوتے ہیں۔اس لئے تہجد کی نماز سے پہلے سونا ضروری ہے۔جولوگ ساری رات جاگنے کے چلے کھینچتے ہیں وہ عبادت نہیں کرتے۔شریعت کے منشاء کو باطل کرتے ہیں۔ایسی عبادت قرآن کریم کے منشاء کے خلاف ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ پہلی رات سوتے تھے اور آخر رات میں اٹھ کر تہجد پڑھتے تھے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ عبادت کا موقعہ دینا ایک احسان الہی ہے۔مگر افسوس ان لوگوں پر جو نماز کو چھٹی سمجھتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز اپنے رب کی زیارت ہے۔اور زیارت الہی ایک انعام ہے۔اور کوئی عقلمند انسان اپنے محبوب کی زیارت کو چٹی نہیں سمجھے گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو عبادت کی شان ہی یہ بتائی ہے كَأَنَّكَ تَرَاهُ وَإِنْ لَمْ 499