نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 485 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 485

کسی اپنے فعل کے نتیجہ میں نہیں بلکہ محض ثوابا من عِنْدِ اللہ ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ثواب ہے جو اسے مل رہا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس حقیقت زندگی کو سمجھنے کی توفیق عطا کرے اور ہم جیسے بھی ہیں کمزور و ناتواں اور غافل ہمیں توفیق دے کہ وہ ہم سے پیار کرنے لگ جائے اور جب ہم پر اس کا فضل ہو تو شیطان ہمارے دل میں اس وقت بھی یہ وسوسہ نہ پیدا کرے کہ گویا ہم یہ سمجھیں کہ خدا تعالیٰ کا پیار ہمیں اس لئے ملا کہ خدا تعالیٰ نے یہ چاہا کہ ہم پر فضل کرے اور ہم سے پیار کرے ورنہ نالائق مزدوروں سے زیادہ ہماری کوئی حیثیت نہیں ہے خدا کے حضور۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا کرے۔( خطبات ناصر جلد ہشتم صفحه 107 تا114 انوار القرآن تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث جلد اول صفحہ 536-541) حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: عطا رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت عائشہ کی خدمت میں میں، ابن عمرؓ اور عبید اللہ بن عمر کے ساتھ گئے اور ہم نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی عجیب ترین بات بتائیں جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں دیکھی ہو۔اس پر حضرت عائشہ آپ کی یاد میں بیتاب ہو کر رو پڑیں اور کہنے لگیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تو ہر ادا ہی نرالی تھی۔پھر فرمانے لگیں کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات میرے پاس تشریف لائے اور لیٹے بستر پر۔پھر آپ نے فرمایا اے عائشہ ! کیا آج کی رات تو مجھے اجازت دیتی ہے کہ اپنے رب کی عبادت کرلوں۔میں نے کہا خدا کی قسم مجھے تو آپ کی خواہش کا احترام ہے اور آپ کا قرب پسند ہے۔میری طرف سے آپ کو اجازت ہے۔تب آپ اٹھے۔مشکیزہ سے وضو کیا اور نماز کیلئے کھڑے ہوئے اور نماز پڑھنی شروع کی اور اس قدر روئے کہ آنسو آپ کے سینے پر گرنے لگے اور نماز کے بعد دائیں طرف ٹھیک لگا کر اس طرح بیٹھ گئے کہ آپ کا دایاں ہاتھ آپ کی دائیں رخسار کے نیچے تھا۔پھر رونا شروع کر دیا یہاں تک کہ آپ کے آنسو زمین پر ٹپکنے لگے۔فجر کی نماز کے وقت حضرت بلال بلانے کیلئے آپ 485