نُورِ ہدایت — Page 442
جزا سزا کی تقدیر پر ایمان لاتے ہوئے خدا تعالیٰ کی جناب سے نیک اعمال کر کے جزا حاصل کرو۔اس کی رضا کی جنتوں میں جاؤ۔اور نیک جزا میں بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت کی وسعت کس حد تک ہے؟ فرمایا کہ کسی بھی گناہ کا بدلہ اسی قدر ہے جتنا گناہ ہے اور نیکی کا بدلہ دس گنا اور اس سے بھی زیادہ اللہ تعالیٰ فرماتا چلا جاتا ہے۔پس خدا تعالیٰ جو تعلیم بھی انبیاء کے ذریعہ سے دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے ان کی استعدادوں کے مطابق ہے۔اگر پہلی قوموں کی ذہنی صلاحیتیں کم تھیں تو ان کے سامنے ان کی تعلیم بھی اس کے مطابق رکھی۔اسی حوالے سے جوئیں نے بتایا کہ جبریل آئے تھے تو اسی مجلس میں جہاں ایمان کا ذکر ہوا، فرشتے نے ارکان اسلام کا بھی ذکر کیا اور پوچھا کہ اسلام کیا ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کلمہ طیبہ لا إلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ الله - پھر نماز کے بارہ میں پوچھا تو آپ نے فرمایا نماز ہے۔پھر روزہ ہے، پھر زکوۃ ہے، پھر حج ہے۔( صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان الایمان والاسلام والاحسان۔۔۔حدیث نمبر 8) یہ نما ز جو عبادت ہے، روزہ جو عبادت ہے، اس کے لئے بھی کسی کو مکلف نہیں کیا۔بلکہ اگر کوئی بیمار ہے تو اس کو بیٹھ کر یا لیٹ کر بھی نماز پڑھنے کی اجازت ہے۔اگر سفر میں ہے تو جمع کرنے اور قصر کرنے کی اجازت ہے۔اور اسی طرح روزہ ہے سفر میں نہ رکھنے کی اجازت ہے۔بیماری میں نہ رکھنے کی اجازت ہے۔زکوۃ ہے وہ صرف اسی پر فرض ہے جو صاحب نصاب ہے۔حج ہے تو اسی پر فرض ہے جو رستے کے وسائل بھی رکھتا ہو اور امن بھی ہو صحت بھی ہو تو اس کا حکم ہے۔ساری چیزیں جو اللہ تعالیٰ نے فرمائیں وہ انسان کی طاقت کے اندر رہتے ہوئے اس کے لئے فرض ہیں اور جیسا کہ میں نے کہا ہر طبقہ نے ان باتوں پر عمل بھی کر کے دکھایا۔قطع نظر ان کے جو مسلمان عمل نہیں کرتے کروڑ با مسلمان ایسے گزرے ہیں جو اس پر عمل کرتے ہیں عمل کر کے دکھا رہے ہیں۔اس حوالے سے تیسری بات جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل اور نمونہ تمہارے لئے اسوۂ حسنہ 442