نُورِ ہدایت — Page 435
میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ اس میں ایمان بھی ہے، دعائیں بھی ہیں، نیک اعمال بجالانے کی طرف توجہ بھی ہے۔تو اصل میں حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب ایک بندہ اس طرح پر اپنی زندگی گزارنے کی کوشش کرتا ہے تو عملاً یہ اظہار کر رہا ہوتا ہے کہ میرے لئے سب کچھ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور پھر ایسے شخص کے لئے آنحضرت ﷺ نے ضمانت دی ہے کہ ان آیات کا نازل کرنے والا اس بندے کے لئے کافی ہو جاتا ہے۔اس کو برائیوں سے بچاتا ہے۔نیکیوں کی توفیق دیتا ہے۔اس میں قناعت پیدا کرتا ہے۔اس کے ہم وغم میں اسے تسلی دیتا ہے۔اسے شیطان سے محفوظ رکھتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی معنوں میں ان آیات کو سمجھتے ہوئے ان کا حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔خطبہ جمعہ حضرت خلیفہ المسیح الخامس اید «الله، فرمودہ 16 جنوری 2009ء) حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خطبہ جمعہ فرمودہ 29 مئی 2009ء میں سورۃ البقرۃ کی آیت 287 کی تلاوت کے بعد فرمایا: جو آیت میں نے تلاوت کی ہے اس کا ترجمہ ہے کہ اللہ کسی جان پر اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا۔اُس کے لئے ہے جو اُس نے کمایا اور اس کا وبال بھی اُسی پر ہے جو اُس نے ( بدی کا ) اکتساب کیا۔اے ہمارے رب ! ہمارا مؤاخذہ نہ کراگر ہم بھول جائیں یا ہم سے کوئی خطا ہو جائے۔اور اے ہمارے رب ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈال جیسا ہم سے پہلے لوگوں پر ( ان کے گناہوں کے نتیجہ میں ) تو نے ڈالا۔اور اے ہمارے رب ہم پر کوئی ایسا بوجھ نہ ڈال جو ہماری طاقت سے بڑھ کر ہو۔اور ہم سے درگزر کر اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر۔تو ہی ہمارا والی ہے۔پس ہمیں کا فرقوم کے مقابلے پر نصرت عطا کر۔اس آیت کے شروع میں ہی خدا تعالیٰ نے یہ وعدہ فرمایا ہے کہ لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا کہ اللہ تعالیٰ کسی جان پر اس کی صلاحیتوں اور اس کی استعدادوں سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا۔پس وسعت کا لفظ جب انسان کے لئے بولا جاتا ہے تو اس کی محدود صلاحیتوں اور 435