نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 397 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 397

”خدا تعالیٰ کی کرسی کے بارے میں یہ آیت ہے وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ۔یعنی خدا کی کرسی کے اندر تمام زمین و آسمان سمائے ہوئے ہیں اور وہ ان سب کو اٹھاتے ہوئے ہے۔ان کے اٹھانے سے وہ تھکتا نہیں ہے۔اور وہ نہایت بلند ہے۔کوئی عقل اس کی گنہ تک پہنچ نہیں سکتی۔اور نہایت بڑا ہے۔اس کی عظمت کے آگے سب چیزیں بیچ ہیں۔یہ ہے ذکر کرسی کا اور یہ محض ایک استعارہ ہے جس سے یہ جتلانا منظور ہے کہ زمین و آسمان سب خدا کے تصرف میں ہیں اور ان سب سے ان کا مقام دُور تر ہے اور اس کی عظمت نا پیدا کنار ہے۔“ چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 118 حاشیہ) پس یہ وہ عظیم خدا ہے جس کی عظمت کا کوئی کنارہ نہیں ہے اور جس کی حدود لامحدود ہیں۔اس نے ہر چیز کا احاطہ کیا ہوا ہے۔اس کی کوئی حد نہیں ہے۔اور ہر چیز اس کے احاطے میں ہے۔ہر چیز کو اس نے گھیرا ہوا ہے۔پس جب انسان کو ان باتوں کی سمجھ ہوگی اور یہ سمجھ کر انسان آیات پڑھے تو تبھی اللہ تعالیٰ کی آغوش میں آسکتا ہے۔اس کی حفاظت میں آجاتا ہے۔جب انسان اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں آنے کی کوشش کرتا ہے تو پھر انسان اللہ تعالیٰ کے حقوق بھی اور بندوں کے حقوق بھی ادا کرنے کی کوشش کرتا ہے اور کرنی چاہئے۔اور جب یہ حقوق ادا ہور ہے ہوں گے تو اللہ تعالیٰ بھی پھر حفاظت فرماتا چلا جاتا ہے۔پس یہ مضمون ہے جسے ہمیں اپنے سامنے رکھتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ تلقین فرمائی ہے کہ جو یہ آیات پڑھے وہ اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں رہے گا۔تو آیات صرف پڑھنا ہی کافی نہیں ہے بلکہ اس کے مضمون پر غور کرتے ہوئے ان باتوں کو اپنانے کی بھی ضرورت ہے اور وہ نہم اور ادراک حاصل کرنے کی بھی ضرورت ہے جو ان آیتوں کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔قرآن کریم نے اس کی وضاحت کئی جگہ پر کی۔اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کو کھول کر ہمارے سامنے رکھا۔اگر یہ باتیں ہوں گی تو پھر انسان خدا تعالیٰ کے فضل سے اس کی حفاظت میں رہے گا۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس 397