نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 393 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 393

سب آیتوں کی سردار ہے اور وہ آیت الکرسی ہے۔( سنن الترمذی ابواب فضائل القرآن باب ما جاء في فضل سورة البقرة وآية الكرسى حديث 2878) اس کی وضاحت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : الله لا إله إلا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ۔یعنی وہی خدا ہے اس کے سوا کوئی نہیں۔وہی ہر ایک جان کی جان اور ہر ایک وجود کا سہارا ہے۔اس آیت کے لفظی معنی یہ ہیں کہ زندہ وہی خدا ہے اور قائم بالذات وہی خدا ہے۔پس جبکہ وہی ایک زندہ ہے اور وہی ایک قائم بالذات ہے تو اس سے صاف ظاہر ہے کہ ہر ایک شخص جو اس کے سوا زندہ نظر آتا ہے وہ اسی کی زندگی سے زندہ ہے اور ہر ایک جوز مین یا آسمان میں قائم ہے وہ اسی کی ذات سے قائم ہے“۔چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد 23 صفحه 120 ) پھر مزید وضاحت فرماتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ ”جاننا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے قرآن شریف نے دو نام پیش کئے ہیں۔اٹھتی اور الْقَيُّوم - الحتی کے معنی ہیں خود زندہ اور دوسروں کو زندگی عطا کرنے والا۔القیوم۔خود قائم اور دوسروں کے قیام کا اصلی باعث۔ہر ایک چیز کا ظاہری، باطنی قیام اور زندگی انہی دونوں صفات کے طفیل سے ہے۔پس کسی کا لفظ چاہتا ہے کہ اس کی عبادت کی جائے“۔( یہ غور طلب ہے۔) حتی کا لفظ چاہتا ہے کہ اس کی عبادت کی جائے۔جیسا کہ اس کا مظہر سورۃ فاتحہ میں ايّاكَ نَعْبُدُ ہے اور الْقَيُّوم چاہتا ہے کہ اس سے سہارا طلب کیا جاوے۔اس کو ايَّاكَ نَسْتَعِينُ کے لفظ سے ادا کیا گیا ہے“۔( زندہ رہنا ہے۔روحانی طور پر بھی زندہ رہنا ہے اور کئی صفت سے فائدہ اٹھانا ہے تو اس کی عبادت کرنا ضروری ہے اور عبادت کے لئے مدد بھی اس سے مانگنے کی ضرورت ہے کہ اللہ تعالیٰ توفیق دے کہ ہم عبادت کرنے والے ہوں۔) فرمایا کہ حق کا لفظ عبادت کو اس لئے چاہتا ہے کہ اس نے پیدا کیا اور پھر پیدا کر کے چھوڑ نہیں دیا۔جیسے مثلاً معمار جس نے عمارت کو بنایا ہے اس کے مرجانے سے عمارت کا کوئی حرج نہیں ہے۔‘ (ایک شخص ہے جس نے کوئی بلڈنگ تعمیر کی ہے۔اس کے مرجانے سے اس بلڈنگ کو کوئی فرق نہیں پڑتا )۔مگر انسان کو خدا کی ضرورت ہر حال میں لاحق رہتی ہے۔( انسان کو خدا کی ضرورت ہر حال میں لاحق رہتی 66 393