نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 338 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 338

فَمَن يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ طاغوت طَعورت سے نکلا ہے۔حد بندی سے آگے بڑھنے والے کو طافی کہتے ہیں۔سیلاب کو بھی طغیانی اِسی لئے کہتے ہیں کہ پانی ندی کی حد مقررہ سے باہر نکل کر اُچھلتا ہے۔شریعت نے ہر بات کے لئے حد رکھی ہے پس جو اس حد سے نکلا ہے وہ طاغی ہوا اور جو تمام حد بندیوں کو توڑ کر نکل جاوے وہ طاغوت کہلاتا ہے۔پس جو حضرت حق سبحانہ کا، جو منز ہ ہے تمام عیوب و نقائص سے اور جامع ہے کمالات وخوبیوں کا ، فرمانبردار ہوتو فقد اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى اُس نے بڑی مضبوط پکڑنے کی چیز کو پکڑا۔عُروہ کہتے ہیں پکڑنے کی چیز کو۔لا إكراه في الدِّينِ قَد أَمَانَ الرُّشْدُ مِنَ التي دین کے معاملہ میں جبر نہیں۔رشد اور غنی الگ الگ چیزیں ہیں۔رشد اختیار کرنے اور غنی کے چھوڑنے میں کسی اکراہ کی ضرورت نہیں۔اس آیت میں تین لفظ ہیں۔دین رشد اور غی۔الدين: اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں جو دین کی توضیح اور تفسیر فرمائی ہے وہ یہ ہے ان الدين عند الله الاسلام اللہ تعالیٰ کے حضور دین کی حقیقت اور ماہیت کیا ہے؟ الإسلام اپنی ساری قوتوں اور طاقتوں کے ساتھ اللہ تعالی کا فرمانبردار ہو جائے۔اللہ تعالیٰ کے فرمان کو لے اور اس پر روح اور راستی سے عمل درآمد کرے۔دین کے متعلق جبرائیل علیہ السّلام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور سوال کیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بلکہ ہم کو آگاہ کیا ہے کہ یہ جبرائیل تھا۔آتَاكُمْ لِيُعَلِّمَكُمْ دِينَكُمْ۔پس دین کی حقیقت اور اس کا صحیح اور سچا مفہوم وہ ہوگا جو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت بیان فرمایا۔الاسلام کے معنے یہ ہیں۔سر رکھ دینا۔جان سے۔دل سے۔اعضاء سے۔مال سے۔غرض ہر پہلو اور ہر حالت میں اللہ تعالیٰ ہی کی فرمانبرداری کرنا۔338