نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 337 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 337

عظمت کے باعث اس پاک ذات کی پروانگی کے سوا کسی کی سپارش بھی کر سکے۔پس کسی کو مقابلہ وحمایت کی تو کیا سکت ہوگی۔وہ جانتا ہے تمام جو کچھ آگے ہوگا اور جو کچھ گذر چکا ہے۔موجودات کی نسبت کیا کہنا ہے۔کوئی بھی اس کے علم سے کسی چیز کا اس کی مشیت کے سوا احاطہ نہیں کر سکتا۔اس کا کامل علم آسمانوں اور زمینوں پر حاوی ہے اور وہ آسمانوں اور زمینوں کی حفاظت سے کبھی نہیں تھکتا۔وہ شریک اور جوڑ سے بلند ہے۔صحیح بخاری میں جسے ہم کتاب اللہ کے بعد اصح الکتب مانتے ہیں لکھا ہے گُرسِيُّهُ عِلمه یعنی کرسی کے معنے علم کے ہیں۔پس معنی کُرسِيُّهُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ (البقرة 256) یہ ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کا علم تمام بلندیوں اور زمینوں کو وسیع اور محیط ہورہا ہے۔لَا إِكْرَاةَ فِي الدِّينِ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ فَمَنْ يَكْفُرُ بالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِنُ بِاللهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى لا انفِصَامَ لَهَا وَاللهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ۔لا إكراه في الدين : ایک انبیاء کی راہ ہوتی ہے۔ایک بادشاہوں کی۔انبیاء کا یہ قاعدہ نہیں ہوتا کہ وہ ظلم و جور و تعدی سے کام لیں۔ہاں بادشاہ جبر وا کراہ سے کام لیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جبر و اکراہ کا تعلق مذہب سے نہیں۔پس کسی کو جبر سے مت داخل کرو کیونکہ جو دل سے مومن نہیں ہوا وہ ضرور منافق ہے۔پھر اسلام بادشاہوں کے افعال کا ذمہ دار نہیں۔مسلمانوں نے یہی غلطی کی کہ معترضین کے مفتریات کو تسلیم کر لیا حالانکہ اسلام دلی محبت و اخلاق سے حق بات ماننے کا نام ہے۔اسی لئے اسلام میں جبر نہیں۔یہ آیت ضروری یا درکھنی چاہئے۔اسلام میں ہر گزرا کراہ نہیں۔قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَي رُشد کہتے ہیں اصَابَةُ الْحَقِّ وَالضَّوَابِ یعنی واقعی بات کو پالینا اور حق تک پہنچ جانا۔غی کہتے ہیں اس حق وصواب کی جگہ سے رُک جانے کو۔337