نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 292 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 292

اظہار ہے مگر اس کے ساتھ ہی ہم پر بڑی بھاری ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں کیونکہ بالواسطہ طور پر اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا منشاء یہ ہے کہ اس کے مومن بندے بھی اس کی طرح ہر وقت چوکس اور بیدار رہیں اور اپنے دائرہ عمل میں ہر چیز کا علم حاصل کریں۔انفرادی طور پر بھی اور اجتماعی طور پر بھی کوئی چیز ان سے پوشیدہ نہ رہے۔اب مثلاً میر اعلم جو ہے اس کا ایک حصہ ایک لحاظ سے دراصل آپ کا ہی علم ہے کیونکہ مجھے کراچی کی بیدار اور چوکس جماعت بھی اطلاع بھجوا رہی ہے، مجھے راولپنڈی کی بیدار اور چوکس جماعت بھی اطلاع بھیجوا رہی ہے، مجھے پشاور کی بیدار اور ہوشیار جماعت بھی اطلاع دے رہی ہے غرض ہر جگہ سے جہاں بھی ہماری جماعت قائم ہے وہاں سے مجھے اطلاع مل رہی ہے اور چونکہ میرا اور آپ کا وجود ایک ہی ہے۔اللہ کے فضل سے آپ میری آنکھیں ہیں جن کے ذریعہ سے میں دیکھتا اور علم حاصل کرتا ہوں آپ میرے کان ہیں جن کے ذریعہ سے میں سنتا اور حالات کی روش کو محسوس کرتا ہوں۔چنانچہ آپ کی فراست اور میری فراست دراصل ایک ہی تصویر کے دورخ یا ایک ہی پیالے کے مختلف اطراف ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جس طرح مجھے کوئی منافق دھوکا نہیں دے سکتا اس طرح میرے مومن بندے کی بھی یہی شان ہے اسے بھی کوئی منافق دھوکا نہیں دے سکتا۔بڑے ہی پیار کا اظہار ہے لیکن ساتھ ہی بڑا بے چین اور پریشان کر دینے والا بیان بھی ہے۔پس اللہ تعالی سے دعا ہونی چاہیے کہ یہاں جس اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے ہم اس اعتماد پر پورا اتر نے والے ثابت ہوں۔فرمایا ان منافقوں کی دوسری علامت یہ ہے کہ ان کے دل میں مرض پیدا ہو چکا ہے اور یہ خود اپنے علاج کی طرف متوجہ نہیں ہوتے اس لئے خدا تعالیٰ کی صفات کا جو عام جلوہ ہے کہ جیسا کوئی بندہ ہوتا ہے اسی کے مطابق اس سے اس کا سلوک بھی ہوتا ہے اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مرض گھٹتا نہیں بلکہ فطرتی تقاضوں کی غلط روش سے ان کا مرض بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔چنانچہ 292