نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 250 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 250

آیت کے نزول کے کئی سال بعد قرآن کریم میں فوج در فوج لوگوں کے اسلام میں داخل ہونے کی خبر دی گئی ہے تو اس آیت کے یہ معنے کسی طرح درست نہیں ہو سکتے کہ اس میں کفار کے مسلمان نہ ہونے کی خبر دی گئی ہے۔یہ شبہ کہ شاید اس آیت میں اس امر کا ذکر ہے کہ آئندہ کوئی کافرایمان نہ لائے گا اس آیت کے معنوں پر غور نہ کرنے سے پیدا ہوا ہے۔ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اس آیت سے کھینچ تان کر بھی یہ معنے نہیں نکالے جاسکتے کہ کا فرایمان نہیں لاتے۔اس آیت میں تو یہ ذکر ہے کہ جن کفار کے لئے ڈرانا یا نڈرا نا برابر ہو وہ ایمان نہیں لاتے۔اور یہ ظاہر ہے کہ نہ ہر کا فرایسا ہوتا ہے کہ اس کے لئے ڈرانا یا نہ ڈرا نا برابر ہو اور نہ ہر کا فر ہدایت سے محروم ہوتا ہے۔کافرمنکر کا نام ہے اور جب ایسے لوگوں کے سامنے صداقت آئے گی جو اس سے واقف نہیں اور اس کے دلائل ابھی ان کے ذہن نشین نہیں ہوئے تو وہ اس وقت تک اس کا انکار کرنے پر مجبور ہوں گے۔لیکن ان میں سے ہر شخص وہ نہ ہوگا جو باوجود صداقت کے روشن ہو جانے کے اس کا منکر ہوگا اور نہ ہر شخص ایسا ہو گا جس کی دماغی قابلیت کے لحاظ سے پہلے ہی دن اس پر صداقت روشن ہو سکے گی۔پس ہر ایسا شخص اس آیت کے مصداقوں میں سے نہ ہوگا۔اس کا مصداق وہی ہو گا جو باوجود صداقت کھل جانے کے اس کا انکار کرے گا یا اس کوشش میں لگا رہے گا کہ مجھ پر صداقت کھلے ہی نہ۔اور ظاہر ہے کہ ان دونوں صفات والالم والا شخص جب تک اپنی اس حالت کو نہ بدلے ایمان نہیں لا سکتا۔خَتَمَ اللهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَعَلَى سَمْعِهِمْ وَعَلَى أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ خَتَمَ اللهُ عَلى قَلبہ جب بولا جائے تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ اس کے دل کو ایسا بنا دیا کہ وہ کوئی بات نہیں سمجھ سکتا اور نہ اپنی بات سمجھا سکتا ہے۔( کلیات ابی البقاء) خَتَمَ الله عَلى قُلُو مہم میں ختم کا لفظ بولنے سے اللہ تعالیٰ کے اس قانون کی طرف اشارہ 250