نُورِ ہدایت — Page 228
حاصل کریں اور فائدہ اٹھائیں۔اس جگہ بھی متقیوں یا مومنوں کے لئے ہدایت کو مخصوص نہیں کیا گیا بلکہ تمام انسانوں کے لئے اسے پیش کیا گیا۔قرآن کریم کی متعدد آیات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ تقویٰ کی راہیں بھی قرآن کریم نے تمام انسانوں کے لئے بیان کی ہیں۔چنانچہ فرماتا ہے يَا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (البقرہ22) یعنی اے انسانو ( نہ کہ مومنو یا مسلمانو) اپنے اس رب کی جس نے تم کو اور تمہارے باپ دادوں کو پیدا کیا ہے عبادت کرو تا کہ تم متقی بنو۔اسی طرح فرماتا ہے۔وَكَذلِكَ اَنْزَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا وَصَرَ فُنَا فِيْهِ مِنَ الْوَعِيدِ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُون (طه 114) یعنی قرآن کریم کو ہم نے عربی زبان میں اتارا ہے اور اس میں تمام عذاب کی خبریں بھی بیان کی گئی ہیں تا کہ جو مومن نہیں وہ بھی متقی ہو جائیں۔اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ قرآن کریم کا فروں کو بھی متقی بناتا ہے۔اب رہا یہ سوال کہ پھر اس جگہ یہ کیوں فرمایا کہ قرآن کریم متقیوں کے لئے ہدایت ہے یہ کیوں نہ فرمایا کہ قرآن کریم تقویٰ پیدا کرتا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس جگہ قرآن کریم کی افضلیت کا ذکر ہے یعنی یہ بیان ہے کہ دوسری کتب کی موجودگی میں اس کتاب کی کیا ضرورت ہے۔پس اس مضمون کے لحاظ سے ان اعلیٰ مقامات کے حصول کا ذکر ہی مناسب اور درست تھا جن میں قرآن کریم منفرد ہے اور جس میں اس کا مقابلہ کرنے کا دوسرے مذاہب کو دعوی تک بھی نہیں۔م اس جواب کے علاوہ اس اعتراض کا ایک اور بھی جواب ہے اور وہ یہ کہ قرآن کریم میں تقویٰ کی ایک اور بھی تعریف بیان کی گئی ہے اور اس تعریف کے رُو سے تقویٰ کا تعلق انسانی فطرت سے ہے نہ کہ مذہب سے۔چنانچہ سورہ شمس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقُوهَا - ہر انسان کو اس کی پیدائش کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ایک امتیازی قابلیت بخشی ہے جس کے ذریعہ سے وہ بڑے اور بھلے میں تمیز کرتا ہے۔یہ قابلیت مسلمان یا غیر مسلمان کے 228