نُورِ ہدایت — Page 210
عرصہ اور جس کی اُمت کا زمانہ گل اکہتر سال ہے۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف مخاطب ہوا اور پوچھا کہ اے محمد ( صلے اللہ علیہ وسلم ) کیا ان کے علاوہ اور حرف بھی آپ پر نازل ہوئے ہیں؟ آپ نے فرمایا ہاں۔اس نے پوچھا کیا؟ آپ نے فرمایاالتص۔اس نے کہا ی زیادہ گراں ہے اور لمبا عرصہ ہے۔الف کا ایک ، لام کے تیس، میم کے چالیس۔اور ص کے تؤے۔گل ایک سوا کا سٹھ (161) ہوئے۔پھر پوچھا کیا ان کے سوا اور حروف بھی آپ پر نازل ہوئے ہیں؟ آپ نے فرمایا ہاں۔اس نے کہا وہ کیا؟ آپ نے فرمایا الر۔اس نے کہا یہ اس سے بھی زیادہ گراں اور لمبا عرصہ ہے۔الف کا ایک لام کے تیس اور د کے دوسو۔گل دوسو اکتیس ہوئے۔پھر کہنے لگا کیا ان کے سوا اور حروف بھی ہیں؟ آپ نے فرمایا ہاں۔اور وہ الٹر کے حروف ہیں۔اس پر وہ بولا کہ یہ تو پہلے سے بھی گراں اور لمبا عرصہ ہے۔الف کا ایک۔لام کے تیں۔میم کے چالیسں۔اور رکے دوسو ہوئے۔کل دوسوا کہتر سال کا عرصہ ہوا۔م پھر کہنے لگا اے محمد ( صلے اللہ علیہ وسلم ) ! آپ کا معاملہ ہم پر مشتبہ ہو گیا ہے۔پتہ نہیں لگتا آپ کو لمبی عمر عطا ہوئی ہے یا چھوٹی۔پھر وہ اور اس کے ساتھی اُٹھ کر چلے گئے۔راستہ میں ابو یاسر نے اپنے بھائی اور دوسرے یہودی علماء سے کہا کیا معلوم کہ یہ سب زمانے محمد ( صلے اللہ علیہ وسلم) کے لئے اکٹھے کر دئیے گئے ہوں جن کی میزان سات سو چونتیس سال ہوتی ہے۔اس پرسب نے کہا کہ معاملہ کچھ مشتبہ ہی ہو گیا ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہود نے ان حروف سے سالوں کی تعداد مُراد لی تھی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنے خیال کا اظہار بھی کیا تھا اور آپ نے ان کے خیال کی تردید نہیں فرمائی۔یہود کا یہ خیال کہ ان حروف سے امت محمدیہ کا زمانہ بتایا گیا ہے ایک بالبداہت غلط بات ہے۔کیونکہ امت محمدیہ کا زمانہ تو تا قیامت ہے۔لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تردید نہ کرنا بھی کچھ معنے ضرور رکھتا ہے اور اس کو مدنظر رکھتے ہوئے اور سورتوں کے مضامین کو دیکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ حروف اپنی عددی قیمت کے لحاظ سے اس زمانہ کی طرف اشارہ 210