نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 197 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 197

لیں یعنی بدیوں سے بچیں اور نیکیاں کریں۔ہماری جماعت کو چاہئے کہ وہ خدا کو سادہ نہ سمجھ لے کہ وہ مکر و فریب میں آجائے گا۔جو شخص سفلہ طبع ہو کر خدا تعالیٰ کو دھوکہ دینا چاہتا ہے اور نیکی اور راست بازی کی چادر کے نیچے فریب کرتا ہے وہ یادر کھے کہ خدا تعالیٰ اسے اور بھی رسوا کرے گا۔فِي قُلُوبِهِمْ مَّرَضٌ فَزَادَهُمُ اللهُ مَرَضًا۔ایسے ہی لوگوں کے لئے فرمایا ہے۔نفاق اور ریا کاری کی زندگی لعنتی زندگی ہے یہ چھپ نہیں سکتی۔آخر ظاہر ہو کر رہتی ہے اور پھر سخت ذلیل کرتی ہے۔خدا تعالیٰ کسی چیز کو چھپاتا نہیں نہ نیکی کو نہ ہدی کو۔سچ نکوکار اپنی نیکیوں کو چھپاتے ہیں مگر خدا تعالیٰ انہیں ظاہر کر دیتا ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جب حکم ہوا کہ تو پیغمبر ہو کر فرعون کے پاس جا تو انہوں نے عذر ہی کیا۔اس میں سر یہ تھا کہ جولوگ خدا کے لئے پورا اخلاص رکھتے ہیں وہ نمود اور ریا سے بالکل پاک ہوتے ہیں۔سچے اخلاص کی یہی نشانی ہے کہ کبھی خیال نہ آوے کہ دنیا ہمیں کیا کہتی ہے۔جو شخص اپنے دل میں اس امر کا ذرا بھی شائبہ رکھتا ہے وہ بھی شرک کرتا ہے۔الحکم جلد 10 نمبر 25 مورخہ 17 جولائی 1906 ، صفحہ 3) وَإِذَا قِيْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ قَالُوا إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ أَلَا إنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُونَ وَلَكِن لَّا يَشْعُرُونَ۔اور جب ان کو کہا جائے کہ تم زمین میں فساد مت کرو اور کفر اور شرک اور بد عقیدگی کومت پھیلاؤ تو وہ کہتے ہیں کہ ہمارا ہی راستہ ٹھیک ہے اور ہم مفسد نہیں ہیں بلکہ مصلح اور ریفارمر ہیں۔خبر دار ہو! یہی لوگ مفسد ہیں جو زمین پر فساد کر رہے ہیں۔( براہین احمدیہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 604 اشیه در حاشیہ نمبر 3) وَإِذَا قِيْلَ لَهُمُ امِنُوا كَمَا آمَنَ النَّاسُ قَالُوا أَنُؤْمِنُ كَمَا أَمَنَ السُّفَهَاءُ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَاءُ وَلَكِن لَّا يَعْلَمُونَ اور جب اُن کو کہا جائے کہ ایمان لاؤ جیسے لوگ ایمان لائے ہیں۔تو وہ کہتے ہیں کہ کیا ہم ایسا ہی ایمان لاویں جیسے بے وقوف ایمان لائے ہیں؟ خبر دار ہو! وہی بے وقوف ہیں مگر 197