نُورِ ہدایت — Page 168
ایمان لاتے ہیں۔یہ مومن کی ایک ابتدائی حالت کا اظہار ہے کہ جن چیزوں کو اس نے نہیں دیکھا ان کو مان لیا ہے۔غیب اللہ تعالیٰ کا نام ہے اور اس غیب میں بہشت، دوزخ ، حشر اجساد اور وہ تمام امور جو ابھی تک پردہ غیب میں میں شامل ہیں۔اب ابتدائی حالت میں تو مومن ان پر ایمان لاتا ہے۔لیکن ہدایت یہ ہے کہ اس حالت پر اسے ایک انعام عطا ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس کا علم غیب سے انتقال کر کے شہود کی طرف آ جاتا ہے اور اس پر پھر ایسا زمانہ آ جاتا ہے کہ جن باتوں پر وہ پہلے غائب کے طور پر ایمان لاتا تھا وہ ان کا عارف ہو جاتا ہے اور وہ امور جوا بھی تک مخفی تھے اس کے سامنے آ جاتے ہیں اور حالتِ شہود میں انہیں دیکھتا ہے۔پھر وہ خدا کو غیب نہیں مانتا بلکہ اسے دیکھتا ہے اور اس کی تجلی سامنے رہتی ہے۔غرض اس غیب کے بعد شہود کا درجہ اسے عطا کیا جاتا ہے جیسے ایمان کے بعد عرفان کا مرتبہ ملتا ہے۔وہ خدا تعالیٰ کو اسی عالم میں دیکھ لیتا ہے اور اگر اس کو یہ مرتبہ عطا نہ ہوتا تو پھر يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ کے مصداق کو کوئی ہدایت اور انعام عطا نہ ہوتا۔اس کے لئے قرآن شریف گویا موجب ہدایت نہ ہوتا۔مگر ایسا نہیں ہوتا اور اس کے لئے ہدایت یہی ہے کہ اس کے ایمان کو حالتِ غیب سے منتقل کر کے حالتِ شہود میں لے آتا ہے اور اس پر دلیل یہ ہے مَن كَانَ في هَذِهِ أَعْمَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْمى (بني اسرائیل:73) یعنی جو اس دنیا میں اندھا ہے وہ دوسرے عالم میں بھی اندھا اُٹھایا جاوے گا۔اس نابینائی سے یہی مراد ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کی تجلی اور ان امور کو جو حالت غیب میں ہیں اسی عالم میں مشاہدہ نہ کرے اور یہ نابینائی کا کچھ حصہ غیب والے میں پایا جاتا ہے لیکن هُدًى لِلْمُتَّقِينَ کے موافق جو شخص ہدایت پالیتا ہے اس کی وہ نابینائی دور ہوجاتی ہے اور وہ اس حالت سے ترقی کر جاتا ہے اور وہ ترقی اس کلام کے ذریعہ سے یہ ہے کہ ایمان بالغیب کے درجہ سے شہود کے درجہ پر پہنچ جاوے گا اور اس کے لئے یہی ہدایت ہے۔متقی کی دوسری صفت یہ ہے يُقِيمُونَ الصَّلوۃ یعنی وہ نماز کو کھڑی کرتے ہیں۔متقی سے جیسے ہو سکتا ہے نماز کھڑی کرتا ہے۔یعنی کبھی اس کی نماز گر پڑتی ہے پھر اسے کھڑا کرتا 168