نُورِ ہدایت — Page 140
کمال تک پہنچا دیا۔اور الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي كا اعلان کر دیا۔مگر جب تک اس اعلی تعلیم کو جامہ عمل نہ پہنایا جاتا اس کے نزول کی غرض پوری نہ ہوسکتی تھی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت پوری طرح کامیاب نہیں کہلا سکتی تھی۔پس اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ میں مسلمانوں کو اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کی دعا سکھائی اور کہا کہ ہمیشہ اپنے سامنے یہ مقصد رکھو کہ جس مقام محمود کو سامنے رکھ کر اس دُنیا نے شروع سے رُوحانی سفر اختیار کیا ہے اور جس کی مختلف منزلوں تک مختلف انبیاء انسانوں کو پہنچاتے چلے آئے ہیں اور جس کی آخری منزل تک پہنچانا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سپر د ہوا ہے اس تک تم پہنچ جاؤ۔پس سارے کے سارے منعم علیہ گروہ کی نعمتوں سے ہمیں حصہ دئے کے یہ معنی ہیں کہ اے خدا ہم کو آدم کی امت کی نیکیاں دے۔اور پھر ہماری ذہنی ترقی نوح کی امت کی طرح کر۔پھر ابراہیم کی امت کے مقام پر پہنچا۔اور پھر موسیٰ کی اُمت کے کمالات ہمیں دے۔اور پھر مسیح کی روحانیت کے اثر سے ہمیں حصہ دے۔اور اس طرح منزل به منزل روحانی بلندیوں پر چڑھاتے ہوئے بالآخر مقام محمد پر ہم کو قائم کر دے تا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے مقصد میں کامیابی حاصل ہو اور وہ مقام محمود پر فائز ہو جائیں۔غرض صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ سے مُراد انسانی کمال کی وہ آخری منزل ہے جس کی طرف شروع سے انسانی قافلہ بڑھتا آ رہا ہے اور جس کی مختلف منزلوں کی راہنمائی مختلف زمانہ کے انبیاء کے سپرد تھی اور جس کی آخری منزل تک پہنچانا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد ہوا تھا۔اور اس دعا کے ذریعہ سے اُمت محمدیہ کے افراد درخواست کرتے ہیں کہ الہی دین کی تکمیل تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے تو نے کر ہی دی ہے۔اب یہ امر باقی ہے کہ ہم لوگوں کے اعمال بھی اس دین کے مطابق ہو جائیں اور ہم ان تمام مخفی اور اعلیٰ قوتوں کا اظہار کریں جن کی مختلف انبیاء کے ذریعے سے نشوونما کی جاچکی ہے اور جن کا پیدا کرنا انسانی پیدائش کا آخری اور اعلیٰ مقصد ہے۔سو اس کام کے لئے ہم کھڑے ہو گئے ہیں۔140