نُورِ ہدایت — Page 141
اب تو ہماری مدد کر اور ان سب منازل عرفان کو یکجائی طور پر طے کرا دے جنہیں فرڈ مختلف انبیاء کے ذریعہ سے مختلف اقوام طے کر چکی ہیں تا کہ انسانی پیدائش کا مقصد امت محمدیہ کے ذریعہ سے پورا ہو جائے۔صحابہ نے اس مقصد کو سامنے رکھا اور زمانہ سابق کی سب اقوام کے اخلاق کو یکجائی طور پر اپنے وجود میں پیدا کر کے ایک بے مثال نمونہ دنیا کے سامنے پیش کیا۔آج اگر ہماری جماعت اس مقصد کو پھر اپنے سامنے رکھ لے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام محمود پر مبعوث ہونے کا وقت اور بھی قریب ہو جائے گا اور دنیا اپنی پریشان کن بے تابیوں سے محفوظ ہو جائے گی۔ہر شخص یا قوم جو اللہ تعالیٰ کو ناراض کر کے اس کے غضب کو بھڑ کا چکی ہو مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ میں شامل ہے۔اسی طرح ہر قوم جو غیر اللہ کی محبت میں کھوئی گئی ہو اور اللہ تعالیٰ کو بھلا بیٹھی ہو وہ ضال ہے۔لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں لفظوں کے خاص معنے بھی کئے ہیں۔امام احمد بن حنبل اپنی مسند میں عدی بن حاتم سے ایک لمبی روایت نقل کرتے ہیں جس کے آخر میں ہے۔قال ( یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) إِنَّ الْمَغْضُوبَ عَلَيْهِم الْيَهُودُ وَاِنَّ الظَّالِينَ النَّصَارى مغضوب علیہم سے مراد یہود ہیں اور ضالین سے مراد نصاری ہیں۔اسی طرح ترمذی نے بھی یہی روایت نقل کی ہے اور اس کے بارہ میں کہا ہے کہ حسن غریب ہے۔ابن مردویہ نے ابوذرغفاری سے ایک روایت نقل کی ہے کہ سألت رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ قَالَ الْيَهُودُ وَ قُلْتُ الضَّالِّينَ قَالَ النَّصارى (بحواله فتح البیان جلد اول) یعنی حضرت ابوذر فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا مغضوب علیہم کون ہیں ؟ آپ نے فرمایا: یہود۔پھر میں نے کہا کہ ضالین کون ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: نصاری۔بہت سے صحابہ سے بھی یہ معنے ثابت ہیں۔مثلاً ابن عباس اور عبد اللہ بن مسعود۔ابن ابی حاتم تو یہاں تک کہتے ہیں وَلَا أَعْلَمُ بَيْنَ الْمُفْسِرِينَ فِي هَذَا اخْتِلَافًا یعنی تمام مفسرين ان معنوں پر متفق ہیں اور اس بارہ میں میں نے ان میں کوئی اختلاف نہیں دیکھا (ابن کثیر )۔141