نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 135 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 135

پس نبوت عطا فرمانے کے بعد اس دُعا کا سکھانا بتا تا ہے کہ حصول نبوت کے لئے یہ دعا نہیں۔یہ اعتراض انتہا درجہ کا بودا اور مصنف کے قلت تدبر پر دلالت کرتا ہے۔اهْدِنَا القيراط الْمُسْتَقیم میں جو دعا سکھائی گئی ہے وہ تو ایک طبعی دعا ہے۔ان الفاظ میں دعا کرنا صرف اس لئے بابرکت ہے کہ قرآنی الفاظ مبارک ہیں اور غلطی سے پاک۔ورنہ تمام حق کے متلاشی خواہ کسی مذہب کو مانتے ہوں یا نہ مانتے ہوں جب ان کے دل میں صداقت کے پانے کی خواہش پیدا ہوتی ہے تو وہ انہی کے ہم معنی الفاظ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یا اللہ ہمیں سیدھا راستہ دکھا اور اپنے پیاروں کا راستہ دکھا۔کیا کوئی معقول انسان بھی تسلیم کر سکتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں نبوت سے پہلے یہ خواہش پیدا نہ ہوئی تھی کہ خدا تعالیٰ انہیں سیدھا راستہ دکھائے اور اپنے پیاروں کی راہ پر چلائے۔اس قسم کا تو خیال بھی انسان کو کافر بنادیتا ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کی تڑپ ہی تو تھی جس نے خدا تعالیٰ کے فضل کو اپنی طرف جذب کیا۔اس تڑپ کو ہی اهْدِنَا الصِّرَاط الْمُسْتَقِیم کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔قرآنی الفاظ نے صرف یہ فرق پیدا کیا ہے کہ اول الفاظ ایسے چنے ہیں جو کامل ہیں اور ہر نقص سے پاک ہیں۔دوسرے ان کے ذریعہ سے ان کے دل میں بھی تڑپ پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے جن کے دل میں یوں تڑپ نہ ہوتی۔تیسرے امید پیدا کر دی گئی ہے کہ ایسی دعا کرو گے تو قبول ہوگی۔بلکہ حکم دیا ہے کہ یہ دعا کرو۔ورنہ یہ خیال کرنا کہ اس قسم کا مفہوم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں پیدا نہیں ہوتا تھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سخت ہتک ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی بھی ہتک ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں تو سیدھا راستہ پانے کی کوئی تڑپ نہ تھی مگر اللہ تعالیٰ نے زبر دستی آپ کو نبی بنا دیا۔(نعوذ بالله من ذلك الخرافات) پھر اگر یہ اعتراض معقول ہے تو کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم کے نزول سے پہلے نیک تھے یا نہیں۔خدا تعالیٰ کی محبت میں سرشار تھے یا نہیں۔135