نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1170 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1170

گرادیتے ہیں۔ان کو انسان دوست سمجھتا ہے لیکن دراصل وہ اس کے دشمن ہوتے ہیں۔فرمایا ان سے بچنے کی ہم۔۔۔ایک ترکیب بتاتے ہیں اور وہ یہ کہ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ۔خدا سے ہمیشہ ان سے محفوظ رہنے کی دعا مانگو۔اس کو کہو کہ اے خدا! تو رب ہے۔رب کے معنے ہیں پیدا کرنے والا اور پیدا کرنے کے بعد اس کی بار یک در بار یک ضروریات کو پورا کر کے کمال تک پہنچانے والا۔تو فرمایا تم ایسے خدا سے مدد مانگو جورب ہے اور اسے کہو کہ ہمیں اس سے بڑھ کر اور کیا ضرورت ہوگی کہ ہمیں ایسی خواہشات اور ایسے لوگوں سے تعلق نہ ہو جو ہمیں نیچے ہی نیچے لے جانے والے ہوں۔پس ہم اپنے آپ کو تیرے ہی سپرد کرتے ہیں کہ تو ہمیں او پر لے جا۔یہ توربوبیت کا واسطہ دے کر دعا ہوئی۔اس سے بڑھ کر مالکیت کا درجہ ہے۔فرمایا پھر اس خدا کو پکارو جو مَلِكِ النَّاس ہے۔لوگوں کا بادشاہ ہے۔بادشاہ کبھی یہ پسند نہیں کرتا کہ کوئی باغی اس کی رعایا کو تکلیف پہنچائے۔اس لئے فرمایا خدا کو ملک کے نام سے اپنی مدد کے لئے پکارو کہ اے خدا ہم تیری رعایا ہیں۔کیا اگر ہمیں کوئی دکھ دے، کوئی تکلیف پہنچائے تو تیری شان بادشاہت کو غیرت نہیں آئے گی۔ضرور آئے گی۔پس ہم کو بچا۔دیکھو دنیاوی بادشاہوں کی رعایا کو اگر کوئی بہکائے تو انہیں غیرت آتی ہے اور وہ اسے بلاک اور تباہ کر دیتے ہیں۔اسی طرح اگر کوئی خدا تعالیٰ کو اپنا آپ سپر د کر دے تو کیا وہ اس کے بہکانے والوں کوسز انہیں دے گا؟ ضرور دے گا۔پس فرمایا کہ تم اپنے آپ کو خدا کے سپرد کر دو اور کہو کہ الہی! تو ہی ہمارا بادشاہ ہے اور ہم تیری رعایا۔ہمیں ان باغیوں اور سرکشوں سے نجات دے جو تیرے جادۂ اطاعت سے ہمیں منحرف کرنا چاہتے ہیں۔ربوبیت سے بڑھ کر اُلوہیت کا تعلق ہے۔ہر ایک بادشاہ اللہ نہیں ہوسکتا۔ایک ہی بادشاہ ایسا ہے جو اللہ ہے۔اور وہ خدا تعالیٰ ہے۔فرمایا۔اله الناس۔پھر الوہیت کی صفت کو پکارو۔اور کہو خدایا! ہم تیرے بندے ہیں اور تو ہمارا معبود۔جب کوئی بادشاہ یہ پسند نہیں کرتا کہ اس کی رعایا کو کوئی ورغلائے تو پھر تو جو معبود ہے کس طرح پسند کر سکتا ہے کہ تیرے بندوں کو کوئی ورغلائے۔پس ہم 1170