نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1168 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1168

ہے۔اسی طرح مختلف کتابیں لکھتے ہیں اور ظاہر یہ کرتے ہیں کہ ہم علم پھیلا رہے ہیں لیکن یا تو اسلام سے نفرت پھیلاتے ہیں اور یا دہریت۔گویا اس طرح سے اپنے ملکوں میں بیٹھے دوسروں کو تباہ کرتے ہیں۔وسواس کے ایک معنے صَوْتُ الْحَل کے بھی ہیں۔یعنی اس آواز کے جو زیوروں کی جھنکار سے پیدا ہوتی ہے۔اس لحاظ سے مِن شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ کے یہ معنے ہیں کہ آخری زمانہ میں مغربی اقوام روپیہ کی لالچیں اور حرص ولا دلا کر لوگوں کو گمراہ کریں گی۔اور پھر ساتھ ہی وہ خناس بھی ہوں گی یعنی ایسا نہیں ہوگا کہ وہ کھلے بندوں دس ہزار روپیہ کسی کو اپنی ذاتی اغراض کے لئے دیں۔بلکہ وہ اس طرح دیں گی کہ رو پی بھی دوسرے کو پہنچ جائے اور خود بھی چھپی بیٹھی رہیں۔ایسے حالات میں ہر مومن کو یہ دعا کرنی چاہئے کہ الہی تو مجھے ان کے فتنہ اور شر سے بچا۔پھر يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاس میں بتایا کہ یہ اقوام بعض دفعہ بڑے آدمیوں کے ذریعہ اور بعض دفعہ عوام الناس کے ذریعہ میرے دل میں روپیہ کی محبت پیدا کریں گی۔یا یہ اقوام اتنی دولتمند ہوں گی کہ اگر میں بڑا ہو جاؤں تب بھی یہ مجھے لالچ دے سکیں گی اور اگر میں عوام میں شامل رہوں تب بھی مجھے لالچ دے سکیں گی۔ان آیات میں یہ پیشگوئی بھی ہے کہ آخری زمانہ میں جو فتنے برپا ہوں گے اُن میں آرگنائزیشن ہوگی۔یعنی ایک انتظام کے ماتحت یہ فساد ہوں گے۔لوگ فردا فردا اس میں حصہ نہیں لیں گے بلکہ دوسروں کو بھی اُکسائیں گے اور اپنے ساتھ ملائیں گے۔۔۔۔اسی طرح حکمر ان لوگوں کی علیحدہ تنظیم ہوگی اور ماتحتوں کی الگ اور ہر تنظیم دوسرے ملک کی تنظیم کے ساتھ تعلق رکھے گی۔اسی طرح مذہب کے خلاف جو فتنے ہوں گے وہاں بھی انجمنیں ہوں گی۔مثلاً یہ نہیں کہ کوئی دہر یہ ہو تو اپنے آپ کو ظاہر نہ کرے۔بلکہ ان کی بھی انجمنیں ہوں گی اور وہ علی الاعلان کہیں گے کہ خدا کا غلط عقیدہ لوگوں کے دلوں سے مٹانا ہمارا کام ہے۔1168