نُورِ ہدایت — Page 1162
مہیا کرے گا کہ کفر ذلیل ہو جائے گا اور اسلام کے واسطے غلبہ اور عزت کے دن آجائیں گے۔یہ ایک عجیب دعا ہے جو خدا تعالیٰ نے خود ہم کو سکھائی ہے۔اس کے کسی قدر ہم معنے وہ دعا ہے جو دوسری جگہ قرآن شریف میں آتی ہے اور وہ اس طرح ہے۔رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا (آل عمران (9) اے ہمارے رب بعد اس کے کہ تو نے ہمیں ہدایت کی توفیق عطا فرمائی۔ہمارے دلوں کو کج نہ کر۔یعنی ایک دفعہ جس نیکی کو ہم حاصل کریں وہ استقامت کے ساتھ ہمارے اندر قائم رہے۔حمل یہ سورۃ شریفہ قرآن شریف میں سب سے آخری دعا ہے کہ اے اللہ تعالیٰ یہ قرآن جس کے پڑھنے کی تو نے ہم کو توفیق دی ہے۔اب ایسا کر کہ ہمارے دل اس پر ایمان کے واسطے ایسے پختہ رہیں کہ اس کلام کے متعلق کوئی وسوسہ اور بدخیال کبھی ہمارے دل میں نہ آنے پاوے۔اور ہم اس پر عمل کریں اور تیرے نیک بندوں میں شامل ہو جاویں۔قرآن شریف کے ذریعہ سے رحمان خدا نے کس قدر رحمت دنیا پر نازل فرمائی۔تمام احکام شرعیہ، گزشتہ بزرگوں کی نیک مثالیں، طریق دعا ، غرض ہر شئے ضروری کی تعلیم دی گئی ہے۔میں خیال کرتا ہوں کہ امراض سینہ مثلاً سل، کھانسی وغیرہ کے واسطے اس سورہ شریفہ میں ایک دعا ہے۔کیونکہ آجکل ڈاکٹروں نے یہ تحقیقات کی ہے کہ پھیپھڑے میں ایک باریک کیڑے ہوتے ہیں جن کو جرمز (germs) کہتے ہیں۔جب وہ پیدا ہو جاتے ہیں تب پھیپھڑا زخمی ہو کر رسل کی بیماری اور کھانسی پیدا ہو جاتی ہے۔جن بھی ایک بار یک اور مخفی شئے کو کہتے ہیں۔اس سورۃ میں ان اشیاء کے شر سے پناہ چاہی گئی ہے جو سینہ کے اندر ایک خرابی پیدا کرتے ہیں۔ناظرین اس کا تجربہ کریں۔لیکن صرف جنتر منتر کی طرح ایک دعا کا پڑھنا اور پھونک دینا بے فائدہ ہے۔سچے دل کے ساتھ اور معنی کو یہ سورۃ بطور دعا کے مریض اور اس کے معالج اور تیماردار پڑھیں اور مریض کے حق میں دعا کریں تو اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے اور بخشنے والا ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ ایسے بیماروں کو اس کلام پاک کے ذریعہ شفا حاصل ہو۔واللہ اعلم بالصواب۔1162