نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1163 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1163

حمد اس سورہ شریفہ کے شان نزول کے بارہ میں حدیث شریف میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ آج کی رات مجھ پر اس قسم کی آیات نازل ہوئیں کہ ان جیسی میں نے کبھی نہیں دیکھیں وہ معوذتین ہیں۔ابوسعید خدری کہتے ہیں کہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم جن و انس کی نظر بد سے پناہ مانگا کرتے تھے ،مگر جب مُعوذتین نازل ہوئیں تو آپ نے اور طرح اس امر کے متعلق دعا کرنا چھوڑ دیا اور ہمیشہ ان الفاظ میں دعا مانگتے تھے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوا کرتے تو ان دونوں سورتوں کو پڑھ پڑھ کر دم کیا کرتے تھے۔ضمیمه اخبار بدر قادیان 9 جنوری 1912ء) یہ قرآن کی آخری سورۃ کیسی بے نظیر اور لطیف ہے جس میں یہ بیان ہے کہ تم اللہ کریم ، المولى، الرؤوف الرحيم ، ربّ الناس، ملک الناس ، الہ الناس سے پناہ مانگ لو تمام ان غلطیوں اور وسوسوں سے جو کسی مؤسوس کے نظارہ یا کلام سے بندہ کو ہوں کیونکہ ان وسوسوں کی مثال ہو بہو اس تکلیف رساں گنے کی سی ہے جو آٹھوں پہر کاٹنے کے لئے تیار ہے۔جس طرح اس گئے سے بچنے کے لئے ہم کو اس کے مالک کی پناہ مانگنی ہے اور اگر اس کا مالک ہمیں بچانا چاہے اور اس گتے کو دھتکار دے تو کیا مجال کہ وہ کتا کسی کو کاٹ کھائے۔اسی طرح انسانی یا شیطانی وسوسوں سے بچنا بھی اس وجود کی پناہ سے ہو گا جو گل مخلوقات کا رب اور مالک اور محبوب ہے۔وَسُو اس نام ہے ہر ایک ایسی چیز کا جس کا بُرا ہونا ہم سے مخفی رہ گیا اور جس کی بدی سے ہم بے خبر رہے اور اس کی شرارت ہمارے جسم پر یا اخلاق پر یا روحانی معاملات پر اثر ڈالتی ہو یا ڈالا ہو اور ہمیں اس کی اطلاع نہ ملی ہو۔چاہے وہ مخفی چیز ہو۔چاہے وہ انسان، ہاں شیطان بصورت انسان سے۔( رپورٹ جلسہ اعظم مذاہب صفحہ 258 تا261) حم۔۔۔اس سورۃ کو آخیر میں لانے میں یہ حکمت ہے کہ قرآن کو ختم کر کے اور شروع 1163